ایران کی دھمکی: نئی جنگ کی صورت میں امریکی سیاسی اثاثے اور انفراسٹرکچر نشانہ بنیں گے

iran arm d


تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نئی جنگ چھیڑیں، ایرانی حکام کو قتل کیا جائے یا شہری مارے جائیں تو وہ امریکی سیاسی اثاثوں اور جنگ میں شامل ممالک کے انفراسٹرکچر کو ”جائز اہداف“ سمجھے گا۔
نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کو ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ تہران امریکہ اور اسرائیل کے ایک اور حملے کو ممکن سمجھتا ہے اور امریکی سفارتی اشاروں کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایتھنز میں دیے گئے بیانات نے ایران کے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔
اہلکار نے کہا کہ ایران خود کو امریکہ کے ساتھ پہلے ہی حالتِ جنگ میں سمجھتا ہے اور امریکی معاشی و بحری ناکہ بندی، نیز ایرانی فضائی حدود پر پابندیوں کو 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی جارحیت کا تسلسل مانتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات کے بڑھتے دباؤ نے حکام کو ناکہ بندی توڑنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی طرف دھکیل رکھا ہے، جبکہ مختلف جنگی اکائیوں کو متعلقہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ایران کے سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل محسن رضائی نے الگ الگ انتباہ دیا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں خطے میں امریکی زیرِ اثر ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی سہولیات اور زیرِ آب انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ کشیدگی امریکہ کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک پر پابندیوں کے درمیان بڑھی ہے، جہاں جنگ کے آغاز کے بعد جہاز رانی میں شدید رکاوٹیں آئی ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

متعلقہ پوسٹ