واشنگٹن — ’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جن میں مختصر مگر شدید حملوں کی تیاریاں شامل ہیں۔
رپورٹ میں امریکی حکام اور متعلقہ افراد کے حوالے سے کہا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج نے مشقیں تیز کر دی ہیں، بشمول حملے کی حکمتِ عملی کی مشق کے لیے عراق کے فضائی علاقے میں پروازیں۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرون کا ذخیرہ اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے منصوبوں میں گہری زیرِ زمین سائٹ ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ ممکنہ نئے حملوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سال بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی میں واپسی کے منصوبوں کو بار بار ویٹو کیا ہے، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ حملوں کی منظوری دیں گے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ دونوں فریق مذاکرات میں مصروف ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی جو موجود ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں، تاہم ٹرمپ تمام آپشنز کو میز پر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا۔ پاکستانی اور قطری ثالثی کے بعد جون میں دستخط ہونے والی مفاہمت کی یادداشت آبنائے میں نیویگیشن سمیت اختلافات کے باعث تب سے معطل ہے۔

