
(24نیوز)امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان شہر اولیشکی میں جنگ بندی کروانے میں کردار ادا کیا ہے جس کا آغاز 27 اکتوبر سے ہو گا۔
یوکرینی شہر اولیشکی پر روس نے فروری 2022ء میں قبضہ کیا تھا، جنگ سے پہلے شہر کی آبادی 24,000 تھی جبکہ اب تقریباً 2,000 افراد باقی رہ گئے ہیں، ان شہریوں کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید قلت کا سامنا ہے،امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ بندی کے تحت یوکرینی شہر اولیشکی میں انسانی امداد پہنچائی جائے گی اور تقریباً 2,000 شہریوں کو ان کی خواہش کے مطابق روس یا یوکرین منتقل کیا جائے گا، ایک امریکی میڈیا ادارہ بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرے گا۔
میلانیا ٹرمپ کے مطابق شہر میں بجلی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے اور مسلسل حملوں سے شہریوں کی زندگی خطرے میں ہے،رپورٹس کے مطابق جنگ بندی سے اولیشکی میں انسانی امداد اور شہریوں کے انخلاء کی امید پیدا ہو گئی ہے تاہم روس اور یوکرین کے درمیان مستقل امن معاہدے پر اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے نومبر کے پہلے نصف ماہ میں ابوظبی میں روس کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں اور فوج کے لیے 10 سال کی مالی معاونت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حوثیوں کے میزائل حملے ناکام، سعودی عرب کی فضائی دفاعی برتری برقرار
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین نے مواصلاتی نظام اسٹار لنک میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ برقرار رہنے پر ایلون مسک سے رابطے کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ایک اور آپریشن کیا جاسکتا ہے۔
فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کر سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جنگ ختم کی جائے یا ایران کو مزید کمزور ہونے دیا جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہےاور امریکہ آبنائے ہرمز سے اپنی مرضی کے مطابق تیل نکال رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو معاشی مشکلات، مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا ہے، ایران کے معاملے کے بعد کیوبا سے بھی نمٹا جائے گا۔

