ایرانی فوج کا دوٹوک اعلان امریکی جنگی جہاز خلیج میں داخل نہیں ہونے دیں گے!

news 1792832496 9173



news 1792832496 9173

(24نیوز)ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل علی عبداللّٰہی کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے امریکی بحریہ کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔

ایرانی فوج کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران امریکی جنگی جہازوں کوخلیج میں داخل نہیں ہونے دے گا، امریکی بحریہ خلیج کے اردگرد کے پانیوں یا ایران کی علاقائی حدود کے قریب آنے کے قابل نہیں رہی۔

علی عبداللّٰہی کا کہنا ہے کہ اگر آپ نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے تو پھر ان خام خیالی پر مبنی دعوؤں کو دہرانے کا کیا مطلب ہے، ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی امریکا اور اسرائیل کو ان کی پیدا کردہ دلدل میں پھنسانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  27 اکتوبر سے کیا ہونے جا رہا؟میلانیا ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیانات سے طاقت کے بجائے مایوسی اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔ ایران اپنے دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے اور غیر متوقع اقدامات کے ذریعے صورتِ حال کے اندازے تبدیل کیے جا سکتے ہیں،انہوں نے تیل اور توانائی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کی صورتِ حال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

 محمد مخبر کا کہنا تھا کہ اس خطے میں ہزاروں سال سے آباد ایرانی قوم آج بھی موجود ہے، جبکہ ان کے بقول اسرائیلی حکومت کو اپنے وجود کے خاتمے کا خدشہ لاحق ہے۔

 ایرانی مشیر کے اس بیان کو امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے تہران کے سخت مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں ایران کے دو سینیئر سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ تہران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملوں کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر بچھائی گئی مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کرلیے ہیں۔

  یہ بیان ایرانی حکام کی جانب سے ان انتباہات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے اور نیا تنازع شروع ہونے کی صورت میں خطے کی زیرِ سمندر کیبلز بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتی ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے دونوں ایرانی حکام نے حملوں کے ممکنہ طریقہ کار یا مقامات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

   تاہم ان میں سے ایک اہلکار کے مطابق ایران کا مقصد حملے کے بعد کیبلز کی مرمت میں رکاوٹ ڈالنا ہوگا تاکہ انٹرنیٹ کنکشنز اور دیگر مواصلاتی نظام میں پیدا ہونے والا تعطل طویل عرصے تک برقرار رہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ