ڈگری کا بوجھ اور ہنر کی طاقت

abu bakar1792872845 0


ہمارے ہاں آج بھی اسکول، کالج، یونیورسٹی، اور آخر میں ڈگری ہی کو کامیابی مانا جاتا ہے، جب کہ مغربی دنیا میں مروجہ روایتی تعلیمی نظام اور ڈگری کی اہمیت کم ہو چکی ہے اور مستقبل میں ڈگری کی اہمیت اور ضرورت مزید کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

2021 میں امریکا کی ایک ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی اینڈ کنسلٹنگ کمپنی نے امریکا میں اپنی آدھی سے زیادہ آسامیوں پر تعیناتی کے لیے بیچلرز ڈگری کی شرط ختم کرکے ہنر و کام میں مہارت کو معیار بنا دیا، 2022 میں امریکی ریاست میری لینڈ (Maryland) نے سرکاری نوکریوں کے لیے بھی ڈگری کی شرط ختم کردی۔

انٹرنیٹ، آئی ٹی اور اے آئی کے دور جدید میں ہنر و مہارت روایتی ڈگری پر حاوی اور اہمیت و افادیت بہت بڑھ چکی ہے مگر ہمارے ہاں طلبہ کو روایتی تعلیمی نظام کی ایک ایسی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں پورا زور صرف کلاس میں حاضری، سوال پوچھنے سے پہلے ہاتھ اٹھانے، باتھ روم جانے کی اجازت کے لیے ایک انگلی اور دو انگلیوں کے اشارے، قطاروں میں بیٹھنے، قطاروں میں چلنے اور صرف کتابی باتیں سکھا کر لکیر کا فقیر بنایا رہا ہے۔

اول جماعت سے لے کر ماسٹر ڈگری تک پریکٹیکل اور پریکٹس کا نام و نشان روایتی نصاب تعلیم میں نہیں ہے۔ اس لیے نتائج مایوس کن ہیں ۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی درستگی پر توجہ دیے بغیر سرکاری اور نجی سیکٹر روایتی فرسودہ تعلیمی نظام کو آگے بڑھانے پر زور لگایا جارہا ہے۔

ملک بھر نئی یونیورسٹیاں، تعلیمی ادارے، سرکاری اور نجی اسکولز تو کھل رہے ہیں۔ مگر نتائج مایوس کن ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (Pakistan Bureau of Statistics) کے لیبر فورس سروے2024 – 2025 کے مطابق ملک میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد ہے۔

ڈگری یافتہ افراد میں یہ شرح 10.8 فیصد، ماسٹرز یا اس سے آگے پڑھنے والوں میں 11.7 فیصد، اور ڈگری یافتہ خواتین میں 23.8 فیصد ہے۔ گویا ڈگری جتنی بڑی، نوکری اتنی ہی دور اور مشکل۔ درحقیقت ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم ڈگریوں والے بیروزگار پیدا کررہا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے (Pakistan Economic Survey) کے مطابق تعلیمی سال 2020 – 2021 کے دوران یونیورسٹیوں میں تقریباً 22 لاکھ طلبہ تھے، 2023- 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 19 لاکھ 60 ہزار ہوگئی، یوں یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود گزشتہ تین برس میں پڑھنے والوں کی تعداد تقریباً 12 فیصد کم ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری معیشت نوکریاں اور روزگار مہیا کرنے میں بری طرح ناکام ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوان اور والدین دونوں مایوس ہو رہے ہیں۔

مشاہدے اور ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ اکثر سمجھ دار نوجوان روایتی تعلیمی ڈھانچے سے باہر نکل کر روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

2017 میں، یونیورسٹی کے چھٹے سمسٹر میں 3.5 جی پی اے کے باوجود میں نے ڈگری ادھوری چھوڑ کر یونیورسٹی کو خیرباد کہا، یوں اپنی کشتی جلا دی اور عملی کام شروع کردیا۔ پھر لاہور سے کراچی شفٹ ہو گیا۔

آج میں ایک عالمی معیار کی کمپنی چلا رہا ہوں جب کہ ایک غیرملکی ڈیجٹل مارکیٹنگ ایجنسی کا سی ای او بھی ہوں۔ یہاں ڈگریوں سے بیزار نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔

ایسے اداروں میں امیدواروں سے ڈگری طلب نہیں کی جاتی، صرف کام میں تجربہ،مہارت اور پروفیشنل ازم کو جانچ کر تعیناتی کردی جاتی ہے۔ او لیول اور اے لیول کرنے والے بچے انگریزی بولنے، سمجھنے، کریٹیکل تھنکنگ اور پرابلم سالونگ میں کافی بہتر ہوتے ہیں۔

مگر آپ حیران ہوں گے کہ ہماری ٹیم میں 80 فیصد لوگ میٹرک اور ایف ایس سی اور روایتی نظامِ تعلیم سے پڑھے ہیں جن میں 95 فیصد کے پاس بیچلر ڈگری بھی نہیں مگر جاب ٹریننگ کے بعد وہ بہترین پروفیشنلز بن چکے ہیں۔

آج ان کا تجربہ اور اپنے کام پر پروفیشنل گرفت ہی ان کی سب سے بڑی ڈگری اوردستاویز ہے۔ ایسے پروفیشنلز کئی کئی ممبرز پر مشتمل ٹیمیں چلاتے ہیں اور بیرونِ ملک کلائنٹس سے معاملات طے کرتے ہیں۔آج دنیا بھر میں نوکری کے لیے پرکھنے کا پیمانہ ڈگری نہیں ہنر اور تجربہ ہے۔

سعودی عرب جانے والے پاکستانی ہنر مندوں کے لیے ، ہنر کا عملی امتحان پاس کرنا لازمی ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ان کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔گزشتہ سال کے پہلے نو مہینوں میں 3 لاکھ 66 ہزار سے زائد امیدواروں نے امتحان دئے جس میں تقریباً 80 فیصد امیدوار کامیاب ٹھہرے جس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ نوجوانوں کا ڈگری سے ہنر کی طرف سفر روبہ ترقی ہے۔

آج پاکستان اقتصادی طور پر مشکل دور سے گزر رہا ہے مگر یہ خوش آئند ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (State Bank of Pakistan) کے مطابق 2025 – 2026 کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جو پچھلے سال سے 78% زیادہ ہے، اس مثبت رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر حکومت اور تعلیمی ادارے روایتی تعلیم کے بجائے ٹیکنیکل ایجوکیشن، آئی ٹی اور اے آئی پر سرمایہ کاری کریں تو یہ زر مبادلہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے کیونکہ فری لانسرز کو یہ خطیر رقم بین الاقوامی کلائنٹس نے ڈگری دیکھ کر نہیں، کام اور ڈلیوری دیکھ کر ادا کی۔

 پاکستان کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنے کے لیے کہ ہمیں ہر ڈگری کے دو یا کم از کم ایک پورا سمسٹر صرف آن جاب ٹریننگ کے لیے مختص کرنے ہوںگے، انھی ایک یا دو سمسٹرز میں طالب علم کو حقیقی معنوں میں اپنی فیلڈ کا تجربہ حاصل ہوگا اور یہی نوکری کے حصول کا پہلا زینہ ہوگا جو پوری ڈگری پر حاوی ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چند شعبے ایسے ہیں جہاں پریکٹیکل ٹریننگ کے علاوہ ڈگری ضروری ہوتی ہے مثلا میڈیکل، سائنس اور قانون مگر کمپیوٹر سائنس، آئی ٹی اور انجینئرنگ میں کامیابی کے لیے ڈگری سے زیادہ حقیقی تجربہ ضروری اور جاب کے حصول کے دوران تجربہ ڈگری پر حاوی ہوتا ہے۔

اگرچہ ہم بحیثیت قوم و ریاست بہت لیٹ ہوچکے ہیں مگر دیرآید درست آید کے مصداق اب ہمیں ہوش کے ناخن لے کر اپنے بچوں کو روایتی فرسودہ تعلیمی نظام کے دلدل سے نکال کر انھیں ہنر اور آن جاب ٹریننگ دے کر کام کرنا سکھانا ہوگا کیونکہ اقتصادی دلدل میں پھنسے پاکستان کو ڈگریوں کے انبار نہیں زر مبادلہ کمانے والے ہنر مند ہاتھ درکار ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ