
(24نیوز) ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیانات سے طاقت کے بجائے مایوسی اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔
جاری بیان میں محمد مخبر نے کہا کہ ایران اپنے دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے اور غیر متوقع اقدامات کے ذریعے صورتِ حال کے اندازے تبدیل کیے جا سکتے ہیں،انہوں نے تیل اور توانائی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کی صورتِ حال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
محمد مخبر کا کہنا تھا کہ اس خطے میں ہزاروں سال سے آباد ایرانی قوم آج بھی موجود ہے، جبکہ ان کے بقول اسرائیلی حکومت کو اپنے وجود کے خاتمے کا خدشہ لاحق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 اکتوبر سے کیا ہونے جا رہا؟میلانیا ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں
ایرانی مشیر کے اس بیان کو امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے تہران کے سخت مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے دو سینیئر سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ تہران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملوں کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر بچھائی گئی مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کرلیے ہیں۔
یہ بیان ایرانی حکام کی جانب سے ان انتباہات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے اور نیا تنازع شروع ہونے کی صورت میں خطے کی زیرِ سمندر کیبلز بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتی ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے دونوں ایرانی حکام نے حملوں کے ممکنہ طریقہ کار یا مقامات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تاہم ان میں سے ایک اہلکار کے مطابق ایران کا مقصد حملے کے بعد کیبلز کی مرمت میں رکاوٹ ڈالنا ہوگا تاکہ انٹرنیٹ کنکشنز اور دیگر مواصلاتی نظام میں پیدا ہونے والا تعطل طویل عرصے تک برقرار رہے۔

