پاکستان میں بچوں سے متعلق فحش مواد تیار کرنے، خریدنے اور فروخت کرنے والے ایک گروہ کو ختم کرتے ہوئے اس کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
قومی ادارے برائے تحقیقات سائبر کرائم (این سی سی آئی اے) کے ایک عہدے دار نے اتوار کو بتایا کہ ملزم کم عمر بچوں، جن میں اس کے اپنے بچے بھی شامل ہیں، سے متعلق جنسی مواد تیار کرنے، خریدنے اور فروخت کرنے میں ملوث تھا۔
این سی سی آئی اے نے بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے یہ کارروائی کی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
حکام کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی والد پر اپنے ہی بچوں سے متعلق جنسی مواد تیار کرنے کے الزام میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے بتایا کہ مرکزی ملزم کا تعلق شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع سکردو سے ہے۔
ملزم ٹیلی گرام کے خفیہ چینلز کے ذریعے کام کرتا اور غیر قانونی مواد کی خرید و فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کرتا تھا۔
شعیب خان نے کہا ’مصدقہ اطلاع ملنے پر ہم نے ملزم کو گرفتار کیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش کاروں نے ملزم کے موبائل فون سے ’بے شمار فحش فائلیں‘ برآمد کی ہیں۔
انہوں نے کہا ’پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک باپ کو اپنے ہی معصوم بچوں کے خلاف اس گھناؤنے جرم میں ملوث پایا گیا ہے۔‘
حکام کے مطابق ملزم اپنے چار اور پانچ سالہ بچوں کی ویڈیوز کو دباؤ ڈالنے اور آن لائن صارفین کو ترغیب دینے کے لیے استعمال کرتا تھا تاکہ وہ پاکستان بھر میں اپنے کم عمر بچوں سے متعلق اسی نوعیت کا جنسی مواد تیار کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں۔
یہ نیٹ ورک صرف خاندان کے افراد تک محدود نہیں تھا۔ حکام مختلف شہروں کی سڑکوں سے چار سے سات سال کی عمر کے کم عمر بچوں کو ورغلا کر اپنے جال میں پھنسانے یا اغوا کرنے کے الزامات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں اہم شواہد اور روابط کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔ شعیب خان نے یہ نہیں بتایا کہ اس نیٹ ورک کے سلسلے میں مزید گرفتاریاں بھی ہوئیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا ’وہ چار سے چھ سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ ویڈیوز بناتے تھے۔‘
ان کے مطابق اس کارروائی میں کم عمر بچوں کو جال میں پھنسانے کے بعد ان کی ویڈیوز ملک بھر اور بیرون ملک پھیلائی جاتی تھیں۔
بچوں کے جنسی استحصال کے علاوہ ابتدائی تجزیے میں اسی نیٹ ورک کے اندر جانوروں پر شدید تشدد کی ویڈیوز کی گردش کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دریں اثنا این سی سی آئی اے کے عہدے دار نے بتایا کہ کراچی کی ایک کم عمر لڑکی سے متعلق شکایت موصول ہونے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اسلام آباد سے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق لڑکی نے کئی سال تک آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کی تھی۔
ادارے نے ان والدین کو سخت تنبیہ کی ہے جو سائبر بلیک میلنگ سے چشم پوشی کرتے ہیں یا اپنے گھرانوں میں سائبر جرائم پیشہ افراد کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔
شعیب خان نے اعلان کیا کہ این سی سی آئی اے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109، جو جرم میں اعانت سے متعلق ہے، ان رشتہ داروں کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو جان بوجھ کر سائبر جرائم پر پردہ ڈالتے یا ملزمان کو پناہ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی اولاد کچھ غلط کر رہی ہے اور آپ اسے کھلی چھوٹ دیتے ہیں تو آپ بھی اس جرم کا حصہ ہیں۔ آپ کو ان کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ اگر آپ کا بیٹا قابو سے باہر ہے تب بھی آپ کو ہمیں اطلاع دینی چاہیے۔‘
آن لائن ورغلانے اور استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر این سی سی آئی اے نے اسلام آباد کے سکولوں اور جامعات میں والدین کے لیے ڈیجیٹل تحفظ اور آگاہی کی جامع مہمات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ان مہمات میں انٹرنیٹ کے غیر نگرانی شدہ استعمال، آن لائن گیمز کے پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا سے وابستہ خطرات پر توجہ دی جائے گی۔

