کراچی کی بچی 764 نامی شیطانی جال میں کیسے پھنسی؟

319411 1406301031


ایک چودہ سالہ بچی سے پہلے تصویریں مانگی گئیں، پھر اس سے ایک بلی مروائی گئی اور پھر اسے اپنے ہی جسم کو زخمی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ کسی ہارر مووی کا منظر نہیں، نہ کسی سنسنی خیز ناول کی کہانی۔ یہ اس دنیا کی حقیقت ہے جسے ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں سمارٹ فون تھما کر ان کے لیے کھول دیتے ہیں۔

اس آن لائن گروپ کا نام ہے 764۔ امریکی میڈیا میں اسے شیطانی گروہ اور نیونازی کلٹ جیسے ناموں سے پکارا گیا ہے۔ 2021 میں منظرعام پر آنے والے اس نیٹ ورک سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس میں بچوں کو بلیک میل کرنے، جانوروں پر تشدد اور خود کو نقصان پہنچانے پر مجبور کرنے جیسے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ اس گروہ کے پیچھے بیٹھے لوگ بچوں کی معصومیت کو ان کی کمزوری بناتے ہیں، ان کے خوف کو اپنا ہتھیار اور ان کی خاموشی کو اپنی ڈھال۔

کراچی کی اس بچی تک پہنچنے کا راستہ بھی وہی تھا جس سے آج لاکھوں بچے روز گزرتے ہیں: سوشل میڈیا۔

انسٹاگرام سے شروع ہونے والا رابطہ آگے بڑھا اور پھر انسٹاگرام اور ڈسکارڈ کے ذریعے بچی ایسے لوگوں کے شکنجے میں پہنچ گئی جن کے چہرے نامعلوم اور ارادے بھیانک تھے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں پہلے اعتماد حاصل کیا جاتا ہے، پھر مطالبات بڑھتے ہیں، پھر بلیک میلنگ اور خوف کے ذریعے بچے کو ایسے کاموں پر مجبور کیا جاتا ہے جن کا تصور بھی ایک عام انسان کو لرزا دے۔

کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر کو اس معاملے کی اطلاع امریکہ سے ایک تحقیقاتی ادارے کے ذریعے ملی۔ این سی سی آئی اے سندھ کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے بچی کا سراغ لگایا اور اسے اس جال سے نکال لیا۔ طارق نواز کے مطابق مزید دو مشتبہ کیسز پر بھی کام ہو رہا ہے، تاہم یہ بچی پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا کیس ہے جس پر ان کا ادارہ کام کر رہا ہے۔

یہاں ذرا ٹھہریے۔

ایک بچی کو بچا لیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے اس کے ساتھ کیا کچھ ہو چکا تھا؟ اسے کن مراحل سے گزارا گیا؟ اور کتنے ایسے بچے ہیں جو ابھی تک کسی اجنبی کے حکم پر اپنی ہی زندگی، اپنے جسم اور اپنی معصومیت کے خلاف لڑ رہے ہیں، مگر کسی ادارے کو ان کی خبر نہیں؟

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں ایسے آن لائن استحصال کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ یہ صرف کسی ایک ملک، کسی ایک طبقے یا کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس ڈیجیٹل دنیا کا مسئلہ ہے جہاں بچوں تک رسائی چند کلکس کے فاصلے پر ہے، مگر ان کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھانے والے اکثر اس خطرے کی سنگینی سے بے خبر ہیں۔

کراچی کے اس کیس کا ایک اور پہلو بھی کم پریشان کن نہیں۔ اطلاعات کے مطابق بچی کے والدین نہ صرف تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں بلکہ اس کے انتظامی معاملات سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تفصیل اس لیے اہم نہیں کہ پڑھے لکھے والدین سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ والدین بھی انسان ہیں، اور کوئی تعلیمی ڈگری اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے اندھیروں سے بچانے کی ضمانت نہیں دیتی۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم اور تعلیمی انتظام سے وابستہ گھرانے کا بچہ بھی ایسے جال میں پھنس سکتا ہے تو پھر ان بچوں کا کیا ہوگا جن کے والدین کو خود یہ معلوم نہیں کہ انسٹاگرام، ڈسکارڈ اور دوسرے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کے بچے کس سے بات کر رہے ہیں، کیا دیکھ رہے ہیں اور کس قسم کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں؟

ہم اپنے بچوں کو اجنبیوں سے بات نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ گھر کا دروازہ کسی نامعلوم شخص کے لیے نہ کھولنے کا کہتے ہیں۔ لیکن جب وہی اجنبی سکرین کے دوسری طرف بیٹھا ہو تو ہمیں اکثر خطرے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ گھر کا دروازہ بند ہوتا ہے، مگر موبائل کی سکرین پر پوری دنیا اندر آ سکتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا سخت قانونی پابندیوں کی بحث جاری ہے۔ پاکستان میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے اسلام آباد میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں شہری وقاص کی جانب سے محمد جلال حیدر اور دیگر وکلا نے قانونی چارہ جوئی کی ہے۔ اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا تک رسائی بچوں کا حق ہے اور حکومت کو اس کے استعمال پر قابو پانے کے بجائے والدین کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔

بچوں کے حقوق اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان کی اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور ڈیجیٹل دنیا میں شرکت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کیا کسی حق کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو ایسے خطرات کے سامنے تنہا چھوڑ دیا جائے جنہیں وہ سمجھنے کی عمر ہی میں نہیں پہنچا؟ کیا والدین کی نگرانی ہر اس پلیٹ فارم پر ممکن ہے جہاں رابطے کے نئے راستے، خفیہ گروپ اور شناخت چھپانے کے طریقے موجود ہوں؟ اور کیا بچوں کے تحفظ کی پوری ذمہ داری والدین پر ڈال کر ریاست اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟

میرا مؤقف واضح ہے۔ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر مؤثر قانونی پابندی ہونی چاہیے۔ اس پابندی پر عمل درآمد کے قابل اعتبار طریقے، پلیٹ فارمز کی جواب دہی اور بچوں کو آن لائن استحصال سے بچانے کے انتظامات بھی ضروری ہیں۔ محض عمر کی شرط لکھ دینا کافی نہیں، لیکن یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور باقی سب کچھ بازار اور ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔

کراچی کی اس بچی کو بچا لیا گیا۔ یہ یقیناً ایک اہم کامیابی ہے۔ مگر بچی کا بچ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ نظام محفوظ ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خطرہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

ایک بلی کو مروانے کے بعد ایک بچی کو اپنے آپ کو زخمی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ سب کسی اندھیری گلی میں نہیں، اس ڈیجیٹل دنیا میں ہوا جسے ہم ترقی، رابطے اور سہولت کا نام دیتے ہیں۔

اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اس دنیا میں بچوں کو پھانسنے والوں کو ہمارے گھروں تک پہنچنے کے لیے دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں۔ انہیں صرف ایک اکاؤنٹ، ایک پیغام اور ایک ایسے بچے کی ضرورت ہے جسے ابھی یہ معلوم ہی نہیں کہ سکرین کے دوسری طرف بیٹھا شخص اس کا دوست نہیں، شکاری ہے۔

کراچی کی اس بچی کو بچا لیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ اگلی بچی کون ہو گی؟ اور کیا ہم اسے بھی بچا سکیں گے یا نہیں؟





Source link

متعلقہ پوسٹ