احمر بلال صوفی، قانون سے قرآن تک

187425 AsgharAbdullahNEWNEW 1382286764


یہ کہانی بہت سال پہلے ٹرنر روڈ لاہور پر واقع سرور بلڈنگ کے ایک کمرے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ کمرہ تین چار وکیلوں نے مل کے کرایہ پر لیا ہوا تھا۔ جب اُن میں سے کسی ایک کا موکل اُس سے ملنے کے لیے آتا، تو جگہ کی تنگی کے باعث، باقی وکیل کمرے سے باہر چلے جاتے۔ ان وکیلوں میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے فارغ التحصیل ایک ہونہار وکیل احمر بلال صوفی ( ایل ایل ایم، کیمرج یونیورسٹی ) بھی تھے۔

دُبلے پتلے اور نازک اندام، مگر پُرامید اور پُرعزم۔ اُن دنوں نظر کا چشمہ بھی لگاتے تھے، جو اب نظر نہیں آتا۔ اُس وقت وہ اپنے خاندان میں پہلے نوجوان تھے، جس نے وکالت کو بطور پروفیشن اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُن کے والد اور والدہ دونوں ڈاکٹر تھے۔ والدہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں، جب کہ والد ڈاکٹر ایم اے صوفی لاہور کالج آف کمیوٹی میڈیسن میں پڑھاتے تھے۔ گویا، اس نوجوان وکیل کو وکالت میں اپنی پہچان آپ پیدا کرنی اور اپنی دنیا خود بنانی تھی۔

 احمر بلال صوفی نے یوں ایک چیلنج سمجھ کر پریکٹس شروع کی۔ اُن کا سب سے پہلا ہدف ایک علیحدہ دفتر کا حصول تھا۔ اُن کی شب و روز کی محنت رنگ لائی اور پریکٹس چل نکلی۔ اس طرح جلد ہی وہ فین روڈ پر تین ہزار روپیہ ماہوارکرایہ پر کمرہ لے کر الگ دفتر بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ مجھے یاد ہے، ان دنوں گاہے گاہے وہ پی ٹی وی پر نوجوانوں کے پروگراموں میں کمپیئرنگ کرتے بھی نظر آ جاتے تھے، مگر جیسے ہی اُن کو خدشہ محسوس ہوا کہ کمپیئرنگ کرنے سے، بطور ایک پروفیشنل وکیل کے، اُن کی شناخت متاثر ہو سکتی ہے تو انھوں نے کمپیئرنگ کو بھی تیاگ دیا۔

اپنی توجہ مکمل طور پر پریکٹس پر مرکوز کردی، اس طرح کہ آیندہ چند برسوں کے اندر اندر بغیر کسی سیاسی وابستگی یا سرپرستی کے، تنہا اپنی قابلیت کے بل بوتے پر وہ شہر کے کامیاب اور مصروف وکیلوں کی صف میں شامل ہو چکے تھے، اور مالی طور پر اتنے خوشحال بھی کہ اسی فین روڈ پر جہاں وہ کرایے کے دفتر میںآئے تھے، اب اپنا ذاتی عالی شان دفتر کھڑا کر سکیں۔ اس نوجوان اورکامیاب وکیل کو مگر ایک چیز بھی لاہور کے باقی وکیلوں سے منفرد اور ممتاز کرتی تھی، اور وہ یہ کہ ڈومیسٹک لاء کے ساتھ ساتھ وہ انٹرنیشنل لاء کی نزاکتوں سے بھی واقف تھے اور اُس کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کا ملکہ بھی انھیں حاصل تھا۔

انٹرنیشنل لاء میں ویسے احمر بلال صوفی کو شروع ہی سے دل چسپی رہی ہے؛ مگر وہ اُن دنوںکیمرج میں پڑھ رہے تھے، جب اُن کو پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان میں بھی اس پر تحقیقی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کی خواہش، بلکہ کوشش یہی تھی کہ یہ کام اعلیٰ حکومتی سطح پر ہو؛ مگر جب حکومت نے اُن کی تجویز کو درخور ِاعتنا نہ سمجھا، توصوفی صاحب نے مایوس ہو کر بیٹھ رہنے کی بجائے خود آگے بڑھ کے ’ریسرچ سوسائٹی آف انٹر نیشنل لاء‘ کے نام سے ایک ادارہ کی بنیاد رکھ دی۔

اس تحقیقی کام کی اُن کی نظر میں اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انھوں نے فین روڈ پر اپنا موجودہ دفتر بنایا تو اس کا ایک پورا فلور اس ریسرچ سوسائٹی کے لیے وقف کردیا۔ اُن کی یہ پُرخلوص کاوش و رائیگاں نہیں گئی، اور وہ ادارہ جس نے کچھ عرصہ پہلے اُن کے دفتر میں محض ایک بک شیلف سے کام کا آغاز کیا تھا، آج لاہوراوراسلام آباد میں اس کے اپنے بہترین دفاتر ہیں، جہاں ہونہار نوجوان وکیلوں کے لیے انٹرن شپ پروگرامز اور ورک شاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان میں انٹرنیشنل لاء کے نامور ملکی و غیر ملکی ماہرین اور محقق لیکچر دیتے ہیں۔علاوہ اس کے، متعدد سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس کی تحقیق سے مستفید ہو رہے ہیں۔

احمر بلال صوفی کو میں نے پہلی بار پی ٹی وی کے ایک یوتھ شو میں دیکھا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں مجھ سے بہت سینئر تھے اور فارغ التحصیل ہو کر جا چکے تھے۔ اُن سے براہ راست شناسائی ان کے والد ڈاکٹر ایم اے صوفی مرحوم کی معرفت ہوئی، جو مجھ پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ وہ ہمیں اس طرح ملا کر گئے کہ اس کے بعد ہمارا مسلسل رابطہ رہا ہے۔اُن کے ساتھ اس دیرینہ رفاقت میں ایک چیز ہمیشہ محسوس ہوئی کہ یہ ان کے نام سے جڑے لاحقہ’صوفی‘ کا اثر ہے، یا اُن کی افتاد طبع ہی ایسی ہے کہ دولت اورشہرت کی قدروقیمت سے پوری طرح واقف ہونے کے باوصف وہ اُن کے لیے ہلکان ہونے والے آدمی نہیں۔کم آمیز تو وہ ہیں ہی، ٹاک شوز میں بھی صرف تب آتے ہیں، جب موضوع زیر ِ بحث پر خاص انٹرنیشنل لاء کے حوالہ سے اُن کی رائے درکار ہو۔

انگریزی میں کالم نگاری کرتے ہوئے بھی خود کو انٹر نیشنل لاء کی تشریح تک محدود رکھتے ہیں۔ اُن کے مزاج کا یہ ’صوفیانہ رنگ‘ اس وقت مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا، جب2013 کی نگران حکومت میں اُن کو وزیر قانون مقررکیا گیا۔ اس عرصہ میں مزید سرکاری مراعات کی جستجو تو دور کی بات، شاید سرکاری گاڑی بھی اُن کے زیرِ استعمال نہیں رہی، اور نہ خوشامد یا چاپلوسی سے آنے والی حکومت میں اپنی جگہ پکی کرنے کی جستجو کی۔ نگران حکومت کی مدت ختم ہوتے ہی دامن جھاڑ کے وکالت کی دنیا میں واپس لوٹ گئے۔

احمر بلال صوفی اپنی قانون کی دنیا میں ہمہ تن مگن تھے کہ ایک روز دل نے اُن کو اس طرح ریڈ سگنل دیا کہ تمام تر مصروفیتوں کو معطل کرنے پر اور بیڈ ریسٹ پر مجبور کر دیا۔ یہی وہ دورانیہ ہے، جب اُن کو اپنی اس قانون کی دنیا سے نکل کر قرآن کی دنیا سے تعلق جوڑنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اپنے اس قرآنی مطالعہ کو انھوں نےQur’anic Covenants کے نام سے قلمبند بھی کر دیا ہے۔

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ قرآن اہل ِایمان سے صرف انھی قانونی احکامات کی اطاعت کا مطالبہ نہیں کرتا جو اسلامی فقہ کا موضوع ہیں، بلکہ یہ اخلاقی، معاشرتی، روحانی، ایمانی ، عباداتی، ہر اعتبار سے خدا اور اہل ایمان کے درمیان باضابطہ ’قانونی معاہدہ‘ ہے، جس کے دنیا اور آخرت میں ’ناگزیر قانونی اثرات ومضمرات‘ ہیں۔ مسلم حکومتوں کے وہ جدید قوانین، جو قرآنی احکام سے براہ راست متصادم نہیں، اور بیشتر ایسے ہی ہیں، ان کی اطاعت درحقیقت احکام قرآنی ہی کی اطاعت اور بعینہ اجر و ثواب کی متقاضی ہے اگر مسلم حکومتیں شہریوں کی اس فکری نہج پر تربیت کریں تو شہری صرف مجبوری کے تحت نہیں، بلکہ اخروی اجرو ثواب کی نیت سے حکومتی قوانین کا احترام کریں گے۔ صوفی صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ اسلام میںمسلم مطلق العنان حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہمیشہ یہی آزمودہ نسخہ استعمال کیا ہے۔

 یہ کتاب پڑھتے ہوئے مگر ایک چیز باربار کھٹکتی ہے۔ وہ یہ کہ میرے بھائی صوفی صاحب صرف اپنے علم قانون کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کر رہے ہیں۔ قرآن کے ایک ادنیٰ اور دیرینہ طالب علم ہونے کی حیثیت سے عرض کروں گاکہ قرآن کی روح تک پہنچنے کا یہ راستہ نہیںہے۔ قرآن کی روح تک قرآن ہی کی روشنی میں پہنچا جا سکتا ہے، آفتاب خود بنماید، چہ حاجت ِ چراغ است۔ چنانچہ قرآن کے ’معاہداتی پہلو‘ کو جس طرحgerenralise کر کے وہ خدا اور بندے کے مابین ازلی و ابدی روحانی تعلق اور اُس کی نزاکتوں پر بھی محیط قرار دیتے ہیں، یہ بھی قرآن کو صرف’علم قانون‘کی روشنی میں سمجھنے کا نتیجہ ہے۔

حقیقتاً، اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ہی اقبالؔ اپنے خطبات میں خبردار کرتے ہیں کہ قرآن میں مذکور قوانین کی بنیاد پر اسے محضLegal Code کے طور پر دیکھنا درست نہیں، ’’ قرآن کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر اُن گوناگوں روابط کا ایک اعلیٰ اور برتر شعورپیدا کرے، جو اُس کے اور کائنات کے درمیان قائم ہیں‘‘۔ لہٰذا جب صوفی صاحب  Qur’anic Covenantsکا اردو ترجمہ ’قرآنی معاہدات‘ کرتے ہیں تو یہ بھی قرآنی روح سے ہم آہنگ محسوس نہیں ہوتا۔ قرآن کی نظرمیں انسان کی حیثیت اس کائنات میں فریق کی نہیں، بلکہ خداکے منتخب اور نائب کی ہے، ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ و ہدی (20:122)، انی جاعل فی الارض خلیفہ (2:30)، جسے خدا نے اپنے خاص علم اور اختیارکے ساتھ ایک عظیم بار امانت سونپ کر اس کائنات میں بھیجا ہے، انا عرضنا الا مانتہ علی السموات و الارض(33:72)۔

بہرحال جس جوش فراواں اورجذبہ ایمانی سے احمر بلال صوفی نے قرآن کی طرف رجوع کیا ہے، یہ اُن کی خوش بختی کی دلیل تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ اس قرآنی عہد کی نوید بھی ہے، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم(,(29:69مگر لاریب اس کے لیے انھیں ’سرکاری مفکرین‘ کے حلقہ اثر سے نکل کر آزادانہ غوروفکر کرنا ہو گا۔

کرگساں را رسم و آئیں دیگر است

سطوتِ پروازِ شاہیں دیگر است





Source link

متعلقہ پوسٹ