شمال مشرقی نیپال میں ہمالیہ کی ایک چوٹی کی بلندی سے واپسی کے دوران انتہائی بلندی سے گرنے کے بعد لاپتہ کوہ پیما مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔
57 سالہ جرمن شہری وولف گینگ واشیچیک نے اتوار کو 6,814 میٹر (22,256) فٹ بلند اما ڈبلام چوٹی سر کی تھی، تاہم چوٹی سے واپسی کے دوران وہ 1,500 میٹر (4,920) فٹ سے زیادہ نیچے جا گرے۔
ان کی لاش پیر کو تلاش اور امدادی اہلکاروں نے برآمد کی، یہ بات گوکل تھاپا نے بتائی، جو ریئل ہمالیہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے سربراہ ہیں، جس نے انہیں مقامی لاجسٹک سہولیات فراہم کی تھیں۔
تھاپا نے لکلا سے، جو پہاڑی علاقے کا داخلی راستہ ہے، خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ’ان کی لاش آج ہی ایک سرچ ٹیم نے برآمد کی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ جرمن کوہ پیما کو آخری مرتبہ پہاڑ پر کیمپ تھری میں زندہ دیکھا گیا تھا، جبکہ ان کی لاش 4,500 میٹر کی بلندی پر دیکھی گئی، یعنی وہ تقریباً 1,700 میٹر نیچے گرے تھے۔
مسٹر واشیچیک نے اما ڈبلام کی مہم کا اجازت نامہ ایک ٹریکنگ کمپنی اسنووی ہورائزن کے ساتھ مشترکہ طور پر حاصل کیا تھا۔
کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بودھراج بھنڈاری نے بتایا کہ 26 اکتوبر کو صبح تقریباً 8 بجے، جب وہ ڈھلوان سے نیچے اترنے کی تیاری کر رہے تھے، کوہ پیما کا اپنے گائیڈ سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
انہوں نے اور ان کے گائیڈ سونم لاما نے اتوار کو چوٹی سر کی تھی اور اسی شام کیمپ تھری واپس آگئے تھے۔ ’دونوں نے ایک سلیپنگ بیگ اور دیگر سامان ادھار لینے کے بعد رات کیمپ تھری میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔‘
اگلی صبح مسٹر لاما نے کوہ پیما سے کہا کہ وہ اپنے حفاظتی سامان کے ساتھ انتظار کریں، جبکہ وہ سلیپنگ بیگ اس کے مالک کو واپس کرنے جا رہے تھے۔
جب وہ طے شدہ مقام پر واپس آئے تو مسٹر واشیچیک وہاں موجود نہیں تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مسٹر بھنڈاری نے مزید بتایا کہ ’جب لاما پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں واپس آئے تو وولف گینگ اس جگہ موجود نہیں تھے جہاں انہیں اپنے حفاظتی سامان کے ساتھ انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔‘
ایک ہیلی کاپٹر اور امدادی ٹیم کو اطلاع دی گئی اور انہوں نے فوری طور پر جرمن شہری کی تلاش شروع کردی، جو برف سے ڈھکی ڈھلوان پر کرامپونز (برف پر گرفت کے لیے جوتوں کے ساتھ لگائے جانے والے نوکیلے آلات (پہنے ہوئے نہیں تھے۔
افسوس ناک طور پر ان کی لاش کیمپ سے تقریباً دو کلومیٹر نیچے ملی۔
موجودہ سیزن میں اما ڈبلام پر یہ پہلی موت ہے۔ یہ چوٹی سولکھمبو ضلع میں کوہ پیماؤں کے درمیان مقبول ہے، جہاں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی واقع ہے۔
ستمبر سے نومبر تک جاری خزاں کے موجودہ کوہ پیمائی سیزن کے دوران 300 سے زائد کوہ پیماؤں کو اما ڈبلام سر کرنے کے اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔
تھاپا نے بتایا کہ جرمن کوہ پیما کی لاش پہاڑ سے اٹھا لی گئی ہے اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو کے ایک ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
یہ واقعہ مغربی نیپال کی ایک دوسری چوٹی پر دو جاپانی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کے چند روز بعد پیش آیا ہے، جو لاپتا ہوگئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ علاقے میں شدید برف باری کے بعد برفانی تودے کے ایک بڑے حصے نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر مار ڈالا۔
اس سال کے اوائل میں پاکستان کے ایک پہاڑ پر 10 کوہ پیماؤں کی موت ہوئی تھی جن میں نیپالی نژاد ایک معروف برطانوی کوہ پیما بھی شامل تھے۔

