اسرائیل: ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سٹہ بازار میں نیتن یاہو کی شکست کی پیش گوئی

yahu 271026 d


اسرائیل — پارلیمانی انتخابات کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سٹہ بازار میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی شکست کی حیران کن پیش گوئی کی گئی ہے۔ پریڈکشن مارکیٹ پولی مارکیٹ پر تقریباً 60 فیصد شرکاء نے مرکز پسند چیلنجر گادی آئزن کوٹ کو اگلا وزیراعظم قرار دیا، جبکہ نیتن یاہو کے لیے 27 فیصد حمایت موجود ہے۔
پولی مارکیٹ کے مطابق آئزن کوٹ کے اقتدار میں آنے کا امکان 58 فیصد اور نیتن یاہو کا 27 فیصد ہے، جبکہ کالشی پر آئزن کوٹ کے لیے 52 فیصد اور نیتن یاہو کے لیے 28 فیصد شرط لگائی گئی ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار ووٹرز کی حمایت نہیں بلکہ سٹہ بازوں کے اندازوں پر مبنی ہیں۔
ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی اور رات 10 بجے تک جاری رہی۔ مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق دوپہر 2 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 44.9 فیصد ریکارڈ ہوا، جو 1973ء کے بعد اس وقت کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے، جبکہ 2022ء کے انتخابات میں اسی وقت ٹرن آؤٹ 38.9 فیصد تھا۔
پولز کھلنے سے قبل ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’مکمل اور کل‘ حمایت کا اعادہ کیا اور انہیں ’زبردست مخالفت کے باوجود مضبوط، بہادر اور شاندار‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایران سے متعلق امریکہ و اسرائیل کے تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیتن یاہو کے علاوہ کوئی اور رہنما منتخب ہوا تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا۔
سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ نے خود کو نیتن یاہو کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی حکومت کو اسرائیل کی تاریخ کی ’بدترین حکومت‘ قرار دیتے ہوئے زیادہ ذمہ دارانہ قیادت کا وعدہ کیا۔
رائے عامہ کے جائزوں سے سخت مقابلے کا اشارہ ملتا ہے، کیونکہ نہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور نہ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے کا واضح امکان نظر آ رہا ہے۔
منقسم سیاسی نظام کے باعث ملک کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ہفتوں یا مہینوں تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ابتدائی نتائج کا اشارہ بدھ کو اور حتمی نتائج کی توقع 4 نومبر تک ہے۔

متعلقہ پوسٹ