تہران کا سفارتی اجتماع ، علاقائی امن کی نئی امید

makkah defence agreement meeting in tehran 2026 jp1793030104 0


دنیا کے نقشے پر بعض شہر اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث پہچانے جاتے ہیں، مگر تاریخ میں ان کا مقام اس وقت بدلتا ہے جب وہاں ہونے والی گفتگو جنگ کے امکانات کو مذاکرات کی راہ دکھانے لگے۔ تہران میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطح نمائندوں کا اجتماع اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک ایسے خطے میں، جہاں بداعتمادی کی دیواریں بلند، سلامتی کے خدشات گہرے اور عالمی طاقتوں کے مفادات باہم متصادم ہیں، چار اہم مسلم ممالک کا ایک میز پر بیٹھنا محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس امکان کی علامت ہے کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے مقامی قوتیں اپنے وسائل، اثرورسوخ اور سیاسی بصیرت کو مشترکہ حکمت عملی میں ڈھال سکتی ہیں۔

اس پیش رفت میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، تاہم اس اجتماع کی اصل کامیابی کا پیمانہ اس کی تصاویر یا اعلامیوں سے زیادہ وہ عملی نتائج ہوں گے جو خطے کو تصادم سے تعاون کی طرف لے جا سکیں۔

تہران میں ہونے والی مشاورت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے کا دروازہ کھلا رکھنا ناگزیر ہے۔ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ چار ایسے ممالک ہیں جن کے جغرافیائی محل وقوع، دفاعی صلاحیت، معاشی امکانات اور مسلم دنیا میں اثرورسوخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے درمیان بعض معاملات پر نقطہ نظر کا اختلاف اپنی جگہ موجود ہے، لیکن علاقائی امن، خودمختاری، توانائی کے تحفظ، تجارت اور بیرونی مداخلت کی روک تھام جیسے مفادات انھیں مشترکہ لائحہ عمل کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے اسلامی ممالک کے اتحاد اور اختلافات کے مفاہمتی حل پر زور دینا بھی اسی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے، اگر اس اجتماع سے مسلسل مشاورت اور باہمی اعتماد سازی کا قابلِ عمل نظام وجود میں آتا ہے تو یہ مستقبل میں بڑے سفارتی اقدامات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ موجودہ علاقائی صورت حال میں عسکری سفارت کاری بھی تنازعات کے حل اور رابطوں کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

عسکری سفارت کاری کا مفہوم محض دفاعی تعلقات کی توسیع نہیں، بلکہ سلامتی سے متعلق خدشات کو سمجھنا، متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطے قائم کرنا اور ایسے اعتماد ساز اقدامات کی گنجائش پیدا کرنا ہے جن سے سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بن سکے۔ فوجی قیادت کے پاس خطے کی سلامتی، سرحدی خطرات اور دفاعی توازن سے متعلق تجربہ ہوتا ہے۔ جب اس تجربے کو سیاسی بصیرت، سفارتی آداب اور مذاکراتی عمل کے ساتھ مربوط کیا جائے تو اختلافات کے باوجود گفتگو کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

تہران کے اس اجتماع کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے تناظر میں دیکھنا بجا ہے، خصوصاً اگر اعلیٰ سطح رابطوں کے قیام کے لیے اسلام آباد کی طرف سے تجویز اور پیش قدمی کی گئی ہو، تاہم کسی ایک ملاقات کو فوری طور پر تاریخی انقلاب یا خطے کی سیاست کا حتمی موڑ قرار دینے کے بجائے اس کی اہمیت کو امکانات اور نتائج دونوں کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔

سفارت کاری میں پہلا قدم اہم ہوتا ہے، لیکن منزل تک پہنچنے کے لیے مستقل مزاجی، فریقین کے تحفظات کا احترام اور عملی ضمانتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔ چاروں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس اتفاق کو باقاعدہ رابطہ کاری، مشترکہ ترجیحات اور اختلافات کے حل کے طریقہ کار میں تبدیل کرنا اصل امتحان ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ موقع اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے ایران کے ساتھ مشترکہ سرحدی مفادات، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی و معاشی روابط اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کی نوعیت مختلف مگر باہم تکمیلی ہے۔

اسلام آباد اگر ان تعلقات کو کسی ایک فریق کے خلاف صف بندی کے بجائے وسیع تر علاقائی مفاہمت کے لیے استعمال کرے تو اس کی سفارتی افادیت بڑھ سکتی ہے۔ اس حکمت عملی میں توازن بنیادی شرط ہے۔ پاکستان کو ایران کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ برقرار رکھنا ہے، سعودی عرب کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات کی مضبوطی کو آگے بڑھانا ہے اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی، صنعتی اور سیاسی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ان تمام سمتوں میں پیش رفت اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب پاکستان کی خارجہ پالیسی کشیدگی میں کمی، خودمختاری کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہے۔

تہران کی اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں بھی سامنے آتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو ایران کے ساتھ مکالمے سے مربوط کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ سلامتی کے معاملات کو محض عسکری صف بندی تک محدود رکھنے کے بجائے سفارتی مفاہمت کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جائے۔

تاہم دفاعی معاہدوں کی افادیت اسی وقت بڑھتی ہے جب ان کا مقصد جنگ کو وسعت دینا نہیں بلکہ جارحیت کی روک تھام، خودمختاری کا تحفظ اور امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہو۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی بحالی، سرحدی و بحری سلامتی کے معاملات اور یمن سمیت دوسرے تنازعات پر مکالمہ اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

تہران میں چاروں ممالک کے نمائندوں نے امن و سلامتی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس اتفاق کو موثر بنانے کے لیے مستقل رابطہ کاری اور قابل پیمائش اقدامات ناگزیر ہوں گے۔ خطے کی موجودہ صورتِ حال میں اس سفارتی کوشش کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات، خلیجی ممالک پر حملوں کے خدشات اور توانائی کی رسد میں ممکنہ رکاوٹیں عالمی معیشت کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کو بھی اسی سفارتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم قیمتوں کا بلند سطح پر برقرار رہنا واضح کرتا ہے کہ بازاروں کو محض مذاکرات کی خبر نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے اور رسد کے تحفظ کی قابلِ اعتماد ضمانت درکار ہے۔

ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل تقریباً 115 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا، جب کہ امریکی خام تیل کی قیمت101 ڈالر سے تجاوز کر رہی تھی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ سفارتی امیدوں کے باوجود توانائی کی منڈی بدستور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔

پاکستان کے لیے تیل کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ محض عالمی منڈی کی خبر نہیں بلکہ قومی معیشت، حکومتی مالیات اور عام آدمی کے گھریلو بجٹ سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ درآمدی ایندھن مہنگا ہونے سے نقل و حمل، بجلی، صنعتی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی لاگت بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان گھرانوں پر پڑتا ہے جن کی آمدن پہلے ہی مہنگائی کے مقابلے میں محدود ہے۔

چنانچہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم قومی فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے سے توانائی کی منڈیوں کو استحکام ملے اور معاشی دباؤ میں کمی کی راہ نکلے۔ البتہ کسی ممکنہ سفارتی کامیابی کو فوری معاشی ریلیف کی ضمانت سمجھنا درست نہیں ہوگا- عالمی قیمتوں میں کمی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے لیے حکومت کو داخلی قیمتوں، ٹیکسوں، توانائی کی پالیسی اور رسدی نظام میں بھی موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

مسلم دنیا کو درپیش سب سے بڑا المیہ وسائل کی کمی سے زیادہ مشترکہ مفادات کو مستقل تعاون میں تبدیل نہ کر پانا ہے۔ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور انسانی سرمائے کے باوجود علاقائی اختلافات نے ترقی کے امکانات کو بارہا محدود کیا ہے۔

تہران کی ملاقات اس تاریخی کمزوری پر قابو پانے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی و تہذیبی قربت کو محض جذباتی نعروں کے بجائے سیاسی اعتماد، معاشی اشتراک اور عملی تعاون کی بنیاد بنایا جائے۔ فلسطین اور لبنان کے عوام کی مشکلات، خلیجی سلامتی اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ جیسے معاملات پر مشترکہ مشاورت اس تعاون کو زیادہ بامعنی بنا سکتی ہے۔

پاکستان کی سفارتی پیش قدمی کی قدر اسی وقت دیرپا اہمیت اختیار کرے گی جب اس کے نتیجے میں جنگ کے امکانات کم ہوں، اختلافات کے حل کے راستے کھلیں اور خطے کے عوام کو امن و خوش حالی کی صورت میں حقیقی فائدہ پہنچے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے تہران میں چار اہم ممالک کو ایک میز پر لانا بلاشبہ ایک قابلِ توجہ سفارتی پیش رفت ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رابطے کو مستقل مکالمے، باہمی اعتماد اور ٹھوس اقدامات میں ڈھالا جائے۔ تاریخ میں سفارت کاروں کی کامیابی کا فیصلہ ملاقاتوں کی تعداد سے نہیں، ان کے ذریعے روکے جانے والے تصادم اور محفوظ کیے جانے والے انسانی مستقبل سے ہوتا ہے۔ تہران کی میز اگر اختلافات کو مفاہمت میں بدلنے کا وسیلہ بن گئی تو اس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ