برڈ فلو کی وبا پھر پھیل گئی! ریڈ الرٹ جاری

news 1793075932 5518



news 1793075932 5518

(ویب ڈیسک )امریکی ریاست یوٹاہ میں منک نامی جانوروں کے ایک تجارتی فارم پر برڈ فلو کی وبا نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، جہاں اگست سے پھیلنے والے ایچ 5 این 1 وائرس کے باعث بڑی تعداد میں جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔

 متعدی امراض کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کی مسلسل پھیلاؤ کے دوران جینیاتی تبدیلیاں اسے انسانوں کے لیے زیادہ خطرناک بناسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منک کے پھیپھڑوں میں موجود خلیاتی رسیپٹرز انسانی جسم میں پائے جانے والے رسیپٹرز سے خاصی مماثلت رکھتے ہیں، جس کے باعث یہ جانور سانس کے ذریعے پھیلنے والے وائرسز کے لیے افزائش اور تبدیلی کا ممکنہ ذریعہ بن سکتے ہیں۔

اگر وائرس منک کی بڑی آبادی میں تیزی سے پھیلتا رہے تو اس میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہونے کا امکان ہوسکتا ہے جو اسے انسانوں میں منتقل ہونے اور پھیلنے کے قابل بنا دیں۔

 یہ بھی پڑھیں:معروف ریسلر انتقال کر گئے!

امریکا میں وبا پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے اور ضابطہ جاتی خامیوں کے باعث صورتحال پر قابو پانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ وفاقی اداروں نے قید میں رکھے جانے والے منک فارمز پر اپنے براہ راست قانونی اختیارات کی کمی کی نشاندہی کی ہے، جبکہ ریاستی حکام نے جانوروں کو بڑے پیمانے پر تلف کرنے اور فارم کے کارکنوں کی صحت کی فعال نگرانی کے لیے لازمی اقدامات کا حکم نہیں دیا۔

مرغیوں کے فارموں پر ایچ 5 این 1 وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد عموماً متاثرہ ریوڑ کو تلف کرنے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم منک فارمز کے لیے وفاقی سطح پر ایسے واضح حفاظتی ضابطوں اور معاوضے کے نظام کی عدم موجودگی بھی تشویش کا باعث ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ جانوروں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی نگرانی نہ ہونے سے انسانوں میں وائرس کی منتقلی کے ممکنہ خطرے کا بروقت پتا لگانا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی کارکن متاثرہ منک کے رابطے میں آنے کے دوران انسانی موسمی فلو کا شکار ہوجائے تو دونوں وائرس ایک ہی جسم میں جینیاتی مواد کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ اس عمل کو جینیاتی ری اسورٹمنٹ کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وائرس کی نئی قسم پیدا ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ