تل ابیب: اسرائیل کے سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انتخابات میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مسلسل قیادت کو مسترد کر دیا ہے۔
تل ابیب میں اپنی جماعت یاشار کے صدر دفتر میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے آئزنکوٹ نے کہا کہ نیتن یاہو کی ناکام اتحادی حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو عوامی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کریں۔
آئزنکوٹ نے اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ فوری طور پر ایک مستحکم حکومت بنانے کا عزم ظاہر کیا، جس کا دعویٰ کہ وہ اسرائیل کے تمام شہریوں کی نمائندگی کرے گی۔
تاہم ابتدائی نتائج سے یہ واضح نہیں ہو رہا کہ نیتن یاہو کے بلاک کو یا آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک کو 120 نشستوں پر مشتمل کنیست میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت ملے گی یا نہیں۔ اس صورتِ حال میں دونوں فریقوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے طویل مذاکرات کا امکان ہے۔

