نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو بھاری اکثریت سے کیوبا پر امریکی اقتصادی ناکہ بندی کی مذمت کی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے بعد 34 سال میں پہلی بار متعدد ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا یا قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔
قرارداد کے حق میں 130 اور مخالفت میں 17 ووٹ پڑے، جبکہ 25 ارکان غیر حاضر رہے۔ گزشتہ سال 165 ارکان نے حمایت اور 7 نے مخالفت کی تھی، اور 12 غیر حاضر رہے تھے۔ جرمنی، اٹلی اور لیٹویا نے تین دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلی بار ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ لتھوانیا، سلووینیا اور متحدہ عرب امارات نے روایت توڑتے ہوئے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ کیوبا کے سابق حامی کوسٹاریکا، کولمبیا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، ہونڈوراس اور چلی نے بھی مخالفت کی یا غیر حاضر رہے۔
منگل کو امریکی سفیر مائیک والٹز اور کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگیز جنرل اسمبلی کے فلور پر الجھ پڑے۔ روڈریگیز نے پوڈیم کے قریب جا کر والٹز کو جھوٹا قرار دیا۔ والٹز نے جواب دیا کہ وہ انہیں ڈرا نہیں سکتے اور انہیں پیچھے ہٹنا چاہیے۔ بعد میں روڈریگیز نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ اپنی معاشی جارحیت کو جائز ٹھہرانے کی ایک اور مایوس کن کوشش کر رہا ہے۔ امریکی ناکہ بندی 1960ء میں فیڈل کاسترو کے انقلاب کے بعد لگائی گئی تھی اور طویل عرصے سے کیوبا کی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ جنوری کے اواخر میں ٹرمپ نے کیوبا کو تیل بیچنے والے ممالک پر ٹیرف کا اعلان کیا، جس سے ایندھن کی سپلائی منقطع ہوئی اور جزیرے میں پانی، کھانا پکانے اور مواصلات کو متاثر کرنے والی بجلی کی بندش شروع ہوئی۔ ٹرمپ نے حال ہی میں فوجی مداخلت کا امکان بھی ظاہر کیا اور کہا کہ ایران کی جنگ سے واپسی پر جنگی جہاز کیوبا میں رک سکتے ہیں۔

