تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم روکنے کی کوششوں کے درمیان ۴۸ گھنٹوں میں ۱۲ ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ سنیچر ۷ نومبر کو انسٹاگرام پر اپنی سفارتی سرگرمیوں کی تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گفتگو میں خطے کی تازہ صورتِ حال، ایران اور امریکہ کی کشیدگی، قومی خودمختاری کے تحفظ اور تصادم روکنے کی سفارتی کوششوں پر بات ہوئی۔
عراقچی کے مطابق انہوں نے تہران کا بنیادی موقف واضح کیا: تمام ممالک کی قومی خودمختاری کا احترام ہو، جارحیت اور دھمکیاں ختم ہوں، بیرونی طاقتوں کی نقصان دہ مداخلت سے گریز کیا جائے اور خطے میں عدم تحفظ کا پھیلاؤ روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی کے انتظامات خود تشکیل دینے چاہئیں اور اس میں خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
جن ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا گیا ان میں ترکی، پاکستان، قطر، عمان، مصر، اردن، جنوبی قبرص کی یونانی قبرصی انتظامیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، تیونس اور عراق شامل ہیں۔ رابطوں کی یہ وسعت ظاہر کرتی ہے کہ تہران موجودہ کشیدگی کو واشنگٹن کے ساتھ دوطرفہ تنازع کے بجائے پورے خطے کی سلامتی کا معاملہ قرار دے رہا ہے۔
یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ واشنگٹن نے جوہری پروگرام پر ایران سے رعایتیں مانگی ہیں اور اسے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اہم شرط قرار دیا ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ پابندیاں ختم کرے، بیرونِ ملک منجمد اثاثے جاری کرے اور ایران کو تیل برآمد کرنے کی اجازت دے۔ بنیادی اختلافات کے باعث وسیع تر سیاسی سمجھوتے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔
تنازع کا پس منظر ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے جڑا ہے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں۔ اپریل میں جنگ بندی ہوئی، مگر کشیدگی ختم نہ ہوئی۔ جولائی میں سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی محاذ آرائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد سے مختلف ممالک جنگ بندی برقرار رکھنے اور نئے بڑے تصادم کو روکنے کے لیے رابطوں اور ثالثی میں مصروف ہیں، جن میں عمان اور قطر کا کردار اہم ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتِ حال بھی مذاکرات کا اہم موضوع ہے۔ یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل و گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی اور آمدورفت سے متعلق اختلافات نے اسے مزید حساس بنا دیا ہے۔ ۵ نومبر کو عمانی اور ایرانی وزرائے خارجہ نے بھی بحری راستوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے اور دوبارہ تصادم سے بچنے کے لیے عملی انتظامات پر گفتگو کی تھی۔
برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کی رپورٹ کے مطابق قطر کی ثالثی میں ایک نئی تجویز پر بات چیت جاری ہے، جس میں ایران کے جوہری مراکز تک IAEA معائنہ کاروں کی رسائی کے بدلے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ جاری کرنے جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں۔ تاہم اس پر حتمی اتفاق نہیں ہوا اور کئی بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
فی الحال ان ٹیلی فونک رابطوں کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان نہیں ہوا، تاہم یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ فوجی کشیدگی کے باوجود خطے میں سفارت کاری کے راستے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

