ایس آئی آر کے لیے بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے دیا تھا ’گھس پیٹھیوں‘ کا حوالہ، صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی ہوئی

SIR Illustration


السٹریشن: پری پلب چکرورتی

ہندوستان ٹائمز نے ان 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران سے رابطہ کیا، جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا تھا یا ووٹر لسٹوں کا مسودہ شائع کیا جا چکا تھا۔ صرف چھ نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کی تعداد بتائی، جہاں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 9.86 کروڑ ہے، اور صرف 1600 لوگوں کے نام ہی غیر ملکی شہریوں کے طور پر نشان زد کیے گئے ہیں۔

نئی دہلی: الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر کے مقاصد میں ’غیر ملکی غیر قانونی تارکین وطن‘ کو ہٹانے کی بات کہے جانے کے ایک سال بعد اس موضوع پر آئی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ اس عمل کے دوران نشان زد کیے گئے ’غیر ملکیوں‘ کی تعداد مجموعی ووٹروں کے مقابلے میں انتہائی کم  پائی گئی ہے۔

معلوم ہو کہ حکومت کے نمائندوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے بھی کئی بار اسی مقصد کا حوالہ دیتے ہوئے متنازعہ ایس آئی آر کی حمایت کی ہے۔

اب ہندوستان ٹائمز کی صحافی ہمانشی دہیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، چھ ریاستوں میں، جہاں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 9.86 کروڑ ہے، صرف 1600 افراد کے نام ہی غیر ملکی شہریوں کے طور پر نشان زد کیے گئے ہیں۔

بی جے پی ایس آئی آر کو اپنی ’شناخت کرو، ہٹاؤ اور ملک بدر کرو‘ کی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ٹھیک ایک سال پہلے، 2025 میں، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران صرف ’گھس پیٹھیوں‘ کے نام ہٹائے گئے تھے۔

شاہ نے کہا تھا، ’اگر وہ ہندوستانی شہری ہوتے،تو  وہ اس کا ثبوت دیتے۔ آپ کو یا مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم سے جو بھی دستاویز مانگا جائے گا، ہم  اپنے دستاویز پیش کر دیں گے۔ جن لوگوں کے نام ہٹائے گئے، ان میں سے صرف تین اپیلیں آئی ہیں۔ اگر کچھ غلط ہوا ہوتا، تو کیا اپیلیں نہیں کی جاتیں؟ اس کا مطلب ہے کہ جن لوگوں کے نام ہٹائے گئے، وہ ہندوستانی شہری تھے ہی نہیں۔ اور انہی کے نام ہٹائے گئے ہیں۔‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اب تک جن لوگوں کو مشتبہ غیر ملکی شہریوں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے، ان کی تعداد ووٹروں کی مجموعی تعداد اور اس عمل کے تحت حذف کیے گئے ناموں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایس آئی آر کے تحت اب تک 13 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے جا چکے ہیں۔ اس عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اور نوجوان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز نے ان 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران (سی ای او) کے دفاتر سے رابطہ کیا، جہاں ایس آئی آر مکمل ہو چکا تھا یا ووٹر لسٹوں کا مسودہ شائع کیا جا چکا تھا۔ ان میں سے 11 ریاستوں کے حکام نے اخبار کو جواب دیا، لیکن صرف چھ ریاستوں نے ہمانشی دہیا کو مشتبہ غیر ملکی شہریوں کی تعداد بتائی۔

خاص بات یہ ہے کہ چار ریاستوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اعداد و شمار الگ سے جمع نہیں کرتے۔ ان میں اڑیسہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اڑیسہ کے ایک افسر نے کہا، ’ہمیں ووٹر لسٹوں میں مشتبہ غیر ملکی شہری ملے تھے، لیکن ہم نے ان کی تعداد کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا۔‘

رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ریاستوں سے یہ اعداد و شمار الگ سے جمع کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔‘

افسر نے مزید کہا، ’ہمارے پاس اس سلسلے میں مجموعی طور پر یا ریاست کے لحاظ سے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ اگر ایسے معاملے سامنے آئے تو انہیں اے ایس ڈی ڈی او میں ’دیگر‘ کے زمرے کے تحت رکھا گیا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ان سے ان معاملوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے نہیں کہا۔‘

کرناٹک میں چیف الیکٹورل افسر کے دفتر نے بتایا کہ 716 غیر ملکی شہریوں کی شناخت کی گئی تھی، جن کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے تھے۔ ان میں بنگلورو نارتھ کے 545 نیپالی شہری شامل ہیں۔

ریاست میں ایس آئی آر سے پہلے ووٹر لسٹ میں 5.54 کروڑ نام درج تھے، لیکن اب ریاست کی ووٹر لسٹ میں تقریباً 99.77 لاکھ نام کم ہو گئے ہیں۔

کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر وی انبوکمار نے کہا کہ ان کے دفتر نے ’غیر ملکیوں کی شناخت کی ہے‘ اور ’ان کی تعداد یقینی طور پر ایک ہزار سے کم ہے۔‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں ان ریاستوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ہیں، جہاں ’غیر ملکی شہریوں‘ سے متعلق ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ کے چیف الیکٹورل افسر بی وی آر سی پرشوتم نے اس طرح کے اعداد و شمار جمع کرنے کے عمل ہی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، ’ہم یہ اعداد و شمار کیسے جمع کر سکتے ہیں؟ یہ انتخابی افسران کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔‘

وزارت داخلہ کے پاس بھی ’دراندازوں‘ کا کوئی ڈیٹا نہیں

قابل ذکر ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان اسی ماہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راہل گاندھی پر ایس آئی آر کے بہانے ’دراندازوں‘ کو بچانے کا الزام لگایا تھا۔

حالاں کہ، وزارت داخلہ نے خود ایک آر ٹی آئی کے جواب میں تسلیم کیا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں شناخت کیے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر کیے گئے ’دراندازوں‘ کے اعداد و شمار مرکزی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

دی وائر نے فروری 2026 میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی جانکاری کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں پہچانے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کے اعداد و شمار مرکزی سطح  طور پر دستیاب نہیں ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب وزارت داخلہ کے پاس اس طرح کا مرکزی اعداد و شمار ہی دستیاب نہیں ہیں، تو دراندازوں کی تعداد اور انہیں ووٹر فہرست میں شامل کرانے کی مبینہ سازش کے بارے میں کیے جانے والے سیاسی دعووں کی بنیاد کیا ہے؟



Source link

متعلقہ پوسٹ