امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ اور ہیرس کی انتخابی مہم کے دوران سروے کیا بتا رہے ہیں؟

abdul syed d

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ۵ دن باقی رہ گئے ہیں۔ قومی سطح کے رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹک پارٹی آگے ہے، لیکن سینیٹ کی کئی نشستوں پر مقابلہ اب بھی سخت ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ، سابق صدر بارک اوباما اور نائب صدر جے ڈی وینس بدھ کے روز اوہائیو، جارجیا اور نارتھ کیرولائنا میں انتخابی مہم چلاتے نظر آئے۔ دونوں پارٹیاں کانگریس میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہیں۔
وسط مدتی انتخابات کے تازہ ترین سروے کیا کہتے ہیں؟
’ریئل کلیئر پولنگ‘ کے قومی سروے کے اوسط اعداد و شمار کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کو ۵۱.۴ فیصد حمایت حاصل ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی ۴۳.۲ فیصد پر ہے۔ اس طرح ڈیموکریٹس کو ۸.۲ فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ تاہم، قومی سطح پر ڈیموکریٹس کی یہ برتری سینیٹ کے ہر انتخابی حلقے میں نظر نہیں آ رہی۔
ٹیکساس میں، جہاں ڈیموکریٹس نے ۱۹۸۸ء کے بعد سے سینیٹ کا کوئی انتخاب نہیں جیتا، ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو، ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن سے آگے ہیں۔ پولنگ کے اعداد و شمار جمع کرنے والے ادارے کے مطابق، ٹالاریکو کو ۴۸.۵ فیصد اور پیکسٹن کو ۴۶.۷ فیصد حمایت حاصل ہے۔
مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے مقابلے میں اپنی برتری بڑھا کر ۷ فیصد پوائنٹس کر لی ہے۔ یہ اعداد و شمار ’سی بی ایس ڈیٹرائٹ‘ کے لیے مچل ریسرچ کی جانب سے کیے گئے سروے میں سامنے آئے ہیں۔ ۲۶ اور ۲۷ اکتوبر کو کیے گئے اس سروے کے مطابق، عبدالسید کو ۵۱ فیصد جبکہ راجرز کو ۴۴ فیصد حمایت حاصل ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں عبدالسید کو ۴.۲ فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ تاہم، ریئل کلیئر پولنگ کے اعداد و شمار میں دونوں امیدواروں کے درمیان فرق کم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے مطابق، عبدالسید کو ۴۸ فیصد اور مائیک راجرز کو ۴۶ فیصد حمایت حاصل ہے۔ برتری کے باوجود ڈیموکریٹس مشی گن میں نوجوان ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مشی گن کے ساتویں کانگریشنل حلقے سے ریپبلکن امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ڈیموکریٹک امیدوار ول لارنس نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں ہر ایک کی حمایت درکار ہے۔ نوجوان ہماری انتخابی حمایت کے اتحاد کا ایک بڑا حصہ ہیں اور ۳ نومبر کو ہونے والے انتخابات میں وہ نتائج کا رخ بدل سکتے ہیں۔‘‘ ڈیموکریٹک کانگریس رکن میکسویل فراسٹ، جو عبدالسید کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے فلوریڈا سے مشی گن پہنچے، نے کہا کہ ووٹروں سے براہِ راست ملاقات اور بات چیت خاص طور پر اہم ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہر کسی نے منفی، تعصب پر مبنی اور اسلاموفوبیا کو ہوا دینے والے اشتہارات دیکھے ہیں، لیکن لوگوں سے بالمشافہ یہ بات کرنے کی کوشش نہیں ہوئی کہ عبدالسید مشی گن کے لیے صحیح سینیٹر کیوں ہیں۔‘‘
ریپبلکن پارٹی بھی نوجوان ووٹروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ایک حامی کے مطابق ’’میرے خیال میں جنریشن زی میں ایک ایسی تحریک ضرور چل رہی ہے جس کا لوگوں کو اندازہ نہیں، اور نوجوانوں کا رجحان زیادہ قدامت پسند سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ مشی گن کے علاوہ، بعض ووٹروں نے دونوں سیاسی جماعتوں کے تئیں اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ کینٹکی کے شہر لیکسنگٹن میں ایک ووٹر نے کہا: ’’ہر پارٹی اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔ میرے خیال میں دونوں جماعتیں وہی باتیں کہیں گی جو ان کے خیال میں ان کے ووٹر سننا چاہتے ہیں۔‘‘
ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر جوئل روبن نے وسط مدتی انتخابات کو ممکنہ طور پر ’’احتجاجی انتخابات‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ڈیموکریٹک ووٹروں کی بڑی تعداد ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنا چاہتی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر سہیل خان نے کہا کہ ٹرمپ کو اپنے ہی کئی ووٹروں کی حمایت کھونے کا سامنا ہے۔ ان ووٹروں میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، مکانوں کے کرایوں اور ہاؤسنگ لون کی لاگت میں اضافے کے باعث ناراضی بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ