حوثی زیرِ انتظام علاقوں میں سعودی عرب کے فضائی حملے، ۱۴ افراد ہلاک

saudi houtis war d


ریاض/لندن/واشنگٹن: یمن میں جاری کشیدگی کے درمیان عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں اور صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں فضائی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمن میں حکومتی حکام نے حوثیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دو میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حملے میں کم از کم ۱۴ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حوثیوں کے مطابق سعودی زیرقیادت فضائی حملے بدھ کے دن شمالی یمن میں صوبہ الجوف کے دارالحکومت الحزم میں ایک پمپ اسٹیشن کے قریب بھرے ہوئے مرکزی بازار کو نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں کم از کم ۱۴ افراد، بشمول تین بچے اور دو خواتین، ہلاک اور ۱۵ زخمی ہوئے۔ حوثی زیرِ انتظام صحت وزارت کے ترجمان انیس الاصباحی نے یہ اعداد و شمار ابتدائی بتائے ہیں۔
اسی دوران یمن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حوثیوں نے عدن ہوائی اڈے کو دو بیلسٹک میزائل داغے، جن سے رن وے پر دھماکوں کے نشانات بن گئے۔ وزارت نے ان حملوں کو مسافروں، ہوائی عملے اور کارکنوں کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
یمنی حکومتی افواج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ عدن ہوائی اڈے کے قریب دو بیلسٹک میزائل گرنے سے متعدد شہری زخمی ہوئے اور مالی نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے حوثیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے ہوائی اڈے پر چھٹا حملہ قرار دیا۔ اے ایف پی کے مطابق عدن پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کے داغے گئے دو میزائل ہوائی اڈے کے احاطے میں گرے۔
حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سری نے اس سے قبل شہریوں سے ہوائی اڈہ خالی کرنے کی اپیل کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ وہاں اسلحہ لے جانے والا سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود ہے، تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ حوثیوں کی وارننگ کے بعد عدن ہوائی اڈہ خالی ہو گیا، جبکہ قاہرہ اور ممبئی سے آنے والی پروازوں کو یمن کے صوبہ حضرموت کے سیئون ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے سیکورٹی خدشات کے باعث سعودی عرب میں موجود اپنے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور فضائی سفر میں خلل پیدا ہوا۔
خبردار کیا گیا ہے کہ یہ صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں امریکی سفارت خانے نے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کیلئے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے قبل چیف آف مشن کی خصوصی اجازت کو لازم قرار دیا ہے۔ امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری رکاوٹوں سے آگاہ رہیں۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ (بشمول ترکی اور مصر) کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔ دفتر خارجہ کی تازہ ترین ہدایات میں علاقائی کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال بدستور انتہائی غیر یقینی ہے اور اچانک کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے، ان مقامات میں تنظیمیں، کاروبار، تنصیبات اور ادارے شامل ہیں، تاہم یہ فہرست انہی تک محدود نہیں۔
برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجود یا وہاں سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے برطانوی شہری ممکنہ طور پر پروازوں کی منسوخی اور سفر میں رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔

متعلقہ پوسٹ