اسرائیلی فوج نے بدھ کو اعتراف کیا ہے کہ 2024 میں غزہ میں پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر اس کے اہلکاروں نے فائرنگ کی تھی اور اس نے واقعے کی مجرمانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
ہند رجب کی لاش 29 جنوری 2024 کو غزہ شہر میں ایک ایسی گاڑی سے ملی تھی، جس پر گولیوں کے متعدد نشانات تھے۔ اس سے چند روز قبل ہند نے فلسطینی ہلالِ احمر کو ایک طویل اور پریشان کن فون کال میں مدد کے لیے پکارا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ واقعے کے مقام کے قریب اس کے اہلکار موجود نہیں تھے۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کو کہا کہ ’تحقیقات کے نتائج کے جائزے اور فلسطینی ہلال احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت میں مبینہ رابطہ کاری کی ناکامی کے باعث ملٹری پولیس کریمنل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ذریعے واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
گاڑی پر فائرنگ کیسے ہوئی؟
اسرائیلی فوج کے مطابق تحقیقات میں سامنے آیا کہ اس کے اہلکاروں نے ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کی، جو ان کی جانب آ رہی تھی اور علاقے کے رہائشیوں کو دی گئی پیشگی ہدایات کے برخلاف آگے بڑھ رہی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فوج کے مطابق ابتدائی فائرنگ میں گاڑی میں موجود پانچ افراد مارے گئے جبکہ ہند رجب اور ان کی کزن لیان حمادہ زندہ بچ گئی تھیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو نکالنے کے لیے فلسطینی ہلال احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت کے لیے رابطہ کاری کی گئی، تاہم ایمبولینس کے موقعے پر پہنچنے کے بعد اس کی جانب ایک گولہ فائر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دونوں طبی امدادی کارکن جان سے گئے۔
ہند رجب کی لاش بعد میں ان کے چھ رشتہ داروں اور انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجے گئے ہلال احمر کے دو امدادی کارکنوں کی لاشوں کے ساتھ ملی تھی۔
ہند رجب کی موت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بچی کی ہنگامی فون کال کی اصل آڈیو ریکارڈنگ کو آسکر کے لیے نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ میں بھی شامل کیا گیا۔
تحقیقات پر بھی سوالات
اسرائیلی وزارت خارجہ نے تحقیقات کے آغاز کو اسرائیل کے ’قانون کی پاسداری کرنے والی جمہوریت‘ ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ’اسرائیل بدسلوکی کے الزامات کی مکمل تحقیقات کرتا ہے، بشمول ان الزامات کے جو ان تباہ کن حالات میں جاری جنگ کے دوران سامنے آتے ہیں اور ان جنگجو تنظیموں کے خلاف ہیں، جو اسرائیل کی تباہی چاہتی ہیں۔‘
تاہم برسلز میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن نے اسرائیلی فوج کی تحقیقات پر ’عدم اعتماد‘ کا اظہار کیا ہے۔
فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا: ’اگر یہ تحقیقات واقعی ہوتی بھی ہیں تو انہیں انصاف کی جانب حقیقی قدم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘
دیگر غزہ واقعات کی تحقیقات
اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ میں پیش آنے والے تین دیگر واقعات میں مجرمانہ تحقیقات نہیں کی جائیں گی، جن میں ورلڈ سینٹرل کچن کے سات ملازمین اور ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے چار کارکنوں کی اموات شامل ہیں۔ دونوں واقعات کو عالمی سطح پر شدید توجہ حاصل ہوئی تھی۔
ورلڈ سینٹرل کچن کے بانی جوزے آندرس نے ایکس پر کہا کہ یہ فیصلہ’غلط ہے اور ہم سب کے لیے تکلیف دہ ہے۔ ہماری ٹیم پر حملوں کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘
امریکہ میں قائم امدادی تنظیم نے اس فیصلے کو ’مکمل حقیقت سے مطابقت نہ رکھنے والا اور انتہائی تکلیف دہ‘ قرار دیا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے مارچ 2025 میں جنوبی غزہ میں 15 فلسطینی طبی اور امدادی کارکنوں کی موت کے واقعے کی مجرمانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ واقعہ بھی بڑے پیمانے پر غم و غصے کا باعث بنا تھا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق 23 مارچ 2025 کو ہنگامی امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں ماری گئی تھی جبکہ دیگر امدادی ٹیمیں اپنے لاپتہ ساتھیوں کی تلاش کے دوران کئی گھنٹوں میں یکے بعد دیگرے نشانہ بنی تھیں۔
مرنے والوں میں فلسطینی ہلال احمر کے آٹھ اہلکار، غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے چھ ارکان اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے فلسطینی پناہ گزینوں کا ایک ملازم شامل تھا۔
لاشیں غزہ کے جنوبی شہر رفح کے قریب ایک ایسی اجتماعی قبر سے ملیں جسے اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے اجتماعی قبر قرار دیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس واقعے میں 15 افراد جان سے گئے، جن میں طبی امدادی کارکن بھی شامل تھے جبکہ اس کا دعویٰ ہے کہ جان سے جانے والے چھ افراد کا تعلق حماس سے تھا۔
فوج کے مطابق اہلکاروں نے بعد میں گاڑیوں کو کچلنے اور لاشوں کو دھاتی جال سے ڈھانپنے کا فیصلہ کیا۔ فوج نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں مجرمانہ بدسلوکی کا معقول شبہ سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اس وقت کہا تھا کہ یہ واقعہ ممکنہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

