تاریخ میں بعض انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی نہیں ہوتے، وہ سماج کے اندر جاری کشمکش، عوامی خواہشات اور سیاسی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ برازیل میں لولا ڈی سلوا کی کامیابی کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کا انتخاب ہے جہاں غربت اور دولت، محنت اور سرمائے، قومی خودمختاری اور عالمی طاقتوں کے اثر ورسوخ کے درمیان کشمکش طویل عرصے سے جاری ہے۔
لولا کی کامیابی یقیناً ان قوتوں کے لیے ایک سیاسی پیغام ہے جو عوامی فلاح کے مقابلے میں منڈی کی آزادی اور سرمایہ دارانہ مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کامیابی کو سوشلزم کی حتمی فتح قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ برازیل کے عوام نے کس مستقبل کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اس فیصلے سے ان کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئے گی۔25 اکتوبر 2026 کو لولا ڈی سلوا نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں 51.79 فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنے حریف فلایو بولسونارو کو شکست دی۔
یہ ان کی چوتھی انتخابی کامیابی ہے، اگرچہ ان کی صدارت کے ادوار مسلسل نہیں رہے۔ ان کے حریف کو بھی 48.21 فیصد ووٹ ملے۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ برازیل کا سماج کسی ایک سیاسی سوچ پر متفق نہیں۔
لولا کی کامیابی اہم ہے مگر تقریباً نصف ووٹروں کی مخالف سمت میں موجودگی بھی ایک حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ انتخابی کامیابی کسی جماعت کو پورے سماج پر اپنی سوچ مسلط کرنے کا اختیار نہیں دیتی بلکہ اسے اختلاف رکھنے والے شہریوں سمیت تمام عوام کے سامنے جواب دہ بناتی ہے۔
لولا کی سیاسی زندگی محنت کش طبقے کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک دھات ساز مزدور سے مزدور یونین کے رہنما اور پھر ملک کے صدر تک کا ان کا سفر، اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جمہوریت میں سیاست کے دروازے صرف مراعات یافتہ خاندانوں اور دولت مند طبقوں کے لیے مخصوص نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کی جماعت ورکرز پارٹی نے مزدوروں کے حقوق غربت میں کمی اور سماجی بہبود کو اپنی سیاست کا اہم حصہ بنایا۔ لولا کے پہلے دو ادوارِ صدارت میں سماجی امداد کے پروگراموں، اجرتوں میں اضافے اور معاشی ترقی نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے۔
برازیل کے تجربے نے یہ دکھایا کہ ریاست اگر عوامی فلاح کو اپنی ذمے داری سمجھے تو معاشی ترقی کے فوائد نسبتاً وسیع حلقوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔یہیں سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ کیا غربت میں کمی اور عوامی فلاح کے پروگرام سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی ساخت تبدیل کیے بغیر مستقل سماجی انصاف قائم کرسکتے ہیں یا یہ اصلاحات ایک ایسے نظام کے اندر عوام کو کچھ تحفظ فراہم کرتی ہیں جس میں دولت اور معاشی طاقت کی تقسیم بدستور غیرمساوی رہتی ہے، اس سوال کا جواب کسی ایک نعرے میں نہیں مل سکتا۔ نہ ہر اصلاح کو انقلاب کا متبادل سمجھ کر رد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہر فلاحی پروگرام کو معاشی انصاف کی منزل قرار دیا جاسکتا ہے۔
سوشل ڈیموکریسی اسی تضاد کے اندر اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جمہوری اداروں، پارلیمانی سیاست، مزدور تنظیموں، ترقی پسند قانون سازی اور سماجی بہبود کے ذریعے سرمایہ داری کی ان ناانصافیوں کو محدود کیا جاسکتا ہے جو سماج کے کمزور طبقات کو عدم تحفظ میں مبتلا کرتی ہیں۔
اس راستے کی اپنی حدود ہیں لیکن ان حدود کی موجودگی اس کے ذریعے حاصل ہونے والی حقیقی کامیابیوں کی نفی نہیں کرتی۔ اگر کسی مزدور کی اجرت بڑھتی ہے، کسی بچے کو تعلیم میسر آتی ہے، کسی خاندان کو بھوک سے نجات ملتی ہے اور کسی شہری کو علاج کی سہولت حاصل ہوتی ہے تو یہ تبدیلیاں اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان کی قدر اس بنیاد پر کم نہیں ہو جاتی کہ سماج میں نجی ملکیت کا نظام ابھی برقرار ہے۔
اس کے باوجود لولا کی سیاست کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔ ریاست کی جانب سے نجی صنعتوں کو قرضے سبسڈیاں اور ٹیکس میں رعایتیں فراہم کرنا بذات خود سماجی انصاف کی ضمانت نہیں، اگر عوام کے ٹیکس سے فراہم کی جانے والی مراعات کا بڑا حصہ چند کاروباری گروہوں کے منافع میں اضافے کا ذریعہ بن جائے اگر مزدوروں کو پیداوار میں اضافے کے برابر فایدہ نہ ملے اور اگر دولت مند طبقے اپنی معاشی طاقت کو سیاسی اثرورسوخ میں تبدیل کرتے رہیں تو ترقی کے دعوؤں پر سوال اٹھانا لازم ہے۔ ریاست کا کام صرف سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات پورے سماج تک پہنچیں۔
یہی وجہ ہے کہ برازیل کے تجربے کو نہ مکمل سوشلزم کہا جاسکتا ہے اور نہ اسے محض ایک بے معنی سرمایہ دارانہ چال قرار دینا مناسب ہے۔ لولا کی حکومت نے مخلوط معیشت کے اندر رہتے ہوئے ریاستی مداخلت، عوامی سرمایہ کاری اور سماجی بہبود کو اہمیت دی۔
انھوں نے ذرائع پیداوار کی عمومی سماجی ملکیت قائم نہیں کی اور نہ ہی سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے کا انقلابی پروگرام نافذ کیا۔ ان کی سیاست اصلاحات اور طبقاتی مفاہمت کے راستے پر چلتی رہی۔
اس راستے کے حامی اسے جمہوری طریقے سے سماجی بہتری کی کوشش سمجھتے ہیں جبکہ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسی اصلاحات سرمایہ دارانہ طاقت کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیے بغیر دیرپا رہ سکتی ہیں۔ دونوں سوالات سنجیدہ غور وفکر کے متقاضی ہیں۔
تاہم یہ بحث بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ معاشی ترقی کو صرف مجموعی پیداوار یا سرمایہ کاری کے اعداد سے کیوں ناپا جائے، کسی ملک کی خوشحالی کا حقیقی پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس کے شہریوں کو کیسی زندگی میسر ہے۔
کیا ایک ماں اپنے بچوں کو مناسب خوراک دے سکتی ہے؟ کیا نوجوانوں کو باعزت روزگار ملتا ہے؟ کیا مزدور بیماری یا ملازمت ختم ہوجانے کی صورت میں مکمل بے سہارا ہوجاتا ہے؟ کیا خواتین معاشی خودمختاری حاصل کرسکتی ہیں ؟کیا ریاستی وسائل سے چلنے والے تعلیمی اور طبی ادارے عام شہریوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جب تک ان سوالوں کے جواب اطمینان بخش نہیں ہوتے، معاشی ترقی کا دعویٰ ادھورا رہتا ہے۔
لولا کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ اپنے سابقہ ادوار کی سماجی کامیابیوں کو کس طرح محفوظ اور مستحکم بناتے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، معاشی سست روی، مہنگائی اور مالیاتی دباؤ نے برازیل کی معیشت کو مختلف ادوار میں متاثر کیا ہے۔
جب روزگار اور اجرتوں میں بہتری کے لیے نجی سرمایہ کاری پر زیادہ انحصار کیا جائے تو معاشی بحران کے دوران اس ترقی کی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سماجی تحفظ کے پروگرام محض وقتی خوشحالی کے ساتھ وابستہ نہ رہیں بلکہ انھیں مضبوط عوامی اداروں، منصفانہ ٹیکس نظام، معیاری تعلیم، صحت اور پائیدار روزگار کی بنیاد فراہم کی جائے۔
اس کے ساتھ قومی خودمختاری کا سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ برازیل قدرتی وسائل زرعی پیداوار اور صنعتی صلاحیت کے اعتبار سے ایک اہم ملک ہے۔ اس کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی ایک عالمی طاقت کے سیاسی یا معاشی دباؤ کا تابع نہ بنے لیکن خودمختاری کا مطلب صرف بیرونی طاقتوں سے فاصلے قائم کرنا نہیں۔
اگر قومی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت عوام کی زندگی بہتر بنانے کے بجائے چند مقامی یا غیرملکی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ کرے تو قومی پرچم کے نیچے ہونے والی معاشی سرگرمی بھی سماجی انصاف کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ قدرتی وسائل کا مالک ہونے کا فایدہ کس کو پہنچتا ہے اور ان کے استعمال کے فیصلے کون کرتا ہے۔
برازیل کا انتخاب ہمیں ایک اور اہم سبق دیتا ہے۔ جمہوریت کی حفاظت صرف اس وقت نہیں کی جاتی جب ہماری پسندیدہ جماعت کامیاب ہو بلکہ اس وقت بھی جب ہماری پسندیدہ جماعت شکست کھائے۔ انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا سیاسی مخالفین کے حقوق کا احترام، آزاد صحافت، عدلیہ کی خودمختاری اور شہری آزادی کا تحفظ جمہوری سماج کی بنیادی شرائط ہیں۔
لولا کی کامیابی کو جمہوریت کی فتح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی حکومت ان اصولوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے لیے بھی اسی طرح تسلیم کرے جس طرح اپنے حامیوں کے لیے کرتی ہے۔ اسی طرح مخالف جماعتوں کو بھی عوام کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا۔
لولا کی کامیابی کا فیصلہ تاریخ محض اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ وہ سوشلسٹ انقلاب لائے یا نہیں۔ تاریخ یہ بھی دیکھے گی کہ ان کے دور میں کتنے لوگوں کو غربت سے نجات ملی، کتنے مزدوروں کو بہتر زندگی میسر آئی،کتنے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوا، دولت کی غیرمساوی تقسیم میں کتنی کمی آئی اور جمہوری ادارے کتنے مضبوط ہوئے۔
برازیل کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب لولا کی ذمے داری ہے کہ وہ اس اعتماد کو محض سیاسی کامیابی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ انصاف مساوات اور انسانی وقار پر مبنی سماج کی تعمیر ایک مسلسل جدوجہد ہے، یہی جدوجہد کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل پہچان ہونی چاہیے۔

