پاکستان نے اتوار کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے امریکہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ کسی بھی بات چیت میں پاکستان کے سکیورٹی خدشات پر گفتگو ضروری ہے۔
یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دینے کی پیشکش کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کے بیان سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ سمیت دوست ممالک کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد تعمیری روابط کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ان کے نتیجے میں پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے عملی اور ٹھوس پیش رفت ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’بامعنی مذاکرات‘ کے لیے افغان طالبان حکام کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور افغان سرزمین سے سرگرم دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس، مستقل اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے کے واضح عزم کا اظہار کرنا ہوگا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہ پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور افغانستان کے اندر پاکستانی فضائی حملوں کے واقعات بھی بارہا پیش آ چکے ہیں، جن میں اکتوبر 2025 کی مہلک لڑائی اور فروری 2026 میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی شامل ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے کو تیار ہے۔
روبیو نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان نے حملے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، جس کے جواب میں اسلام آباد نے کارروائی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے ’پاکستان کے خدشات سنے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔‘
مارکوروبیو نے مزید کہا کہ ’امریکہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ یہ کہاں سے جنم لیتی ہے یا کسے نشانہ بناتی ہے۔‘
Ministry of Information and Broadcasting 31 October 2026 The Afghan Taliban spokesperson’s latest tweet exposes the regime’s deeply misguided approach and unwillingness to confront the root cause of deteriorating relations with Pakistan. The Taliban leadership continues to blame Islamabad’s policies while conveniently ignoring the single most important issue poisoning bilateral relations: its persistent failure to address terrorism emanating from Afghan soil. Pakistan’s position is unequivocal: *terrorism is a red line and the security of its citizens is non-negotiable.* The Afghan Taliban regime must understand that Pakistan will not tolerate terrorist sanctuaries across its borders that impact its security nor allow its people to remain targets of terrorism emanating from Afghanistan. Pakistan reserves the right to take all necessary measures, in accordance with international law, to eliminate threats to its national security, wherever they originate. Kabul must recognise that the responsibility for addressing these threats rests squarely with the Afghan Taliban regime. Pakistan’s resolve to protect its people must never be mistaken for weakness. The Taliban regime’s persistent refusal to address terrorism remains the principal obstacle to normal relations. Shifting blame, making hollow assurances and questioning Pakistan’s policies will neither resolve the crisis nor absolve Kabul of its responsibilities. The Afghan Taliban leadership must understand that *Pakistan’s security will not be held hostage to _Afghan Taliban’s_ inaction, evasions or misplaced priorities.*
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 31, 2026
روبیو نے یہ بھی تسلیم کیا کہ واشنگٹن کے طالبان کے ساتھ خاص طور پر قریبی تعلقات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’اگر ہمارا کوئی تعمیری کردار ہو سکتا ہے تو ہم اسے ادا کریں گے۔‘
ادھر پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے اور وہ اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہے جس کی روک تھام میں طالبان حکومت کی ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم نہیں کرنا چاہتا۔

