عمر بڑھنے کے ساتھ اپنے دماغ کو جوان رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ مونگ پھلی کھانا عادت بنالیں۔
یہ بات نیدرلینڈز میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
Maastricht یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ مونگ پھلی کھانے سے دماغ کو حیرت انگیز فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
اس تحقیق میں 60 سے 75 سال کی عمر کے 31 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
16 ہفتوں تک انہیں روزانہ 60 گرام مونگ پھلی کھانے کی ہدایت کی گئی۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ جاری رکھا گیا اور دریافت ہوا کہ مونگ پھلی کھانے سے دماغ کے دائیں جانب کے حصے کے خطوں کا انسولین پر ردعمل بہتر ہوگیا۔
اگرچہ انسولین ایسا ہارمون ہے جسے بلڈ شوگر ریگولیٹ کرنے کے لیے زیادہ جانا جاتا ہے مگر یہ دماغ کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ ہارمون عصبی خلیات کی نشوونما، بقا اور یادداشت کی معاونت میں کردار ادا کرتا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 16 ہفتوں تک مونگ پھلی کے استعمال سے دماغ کے ایسے حصوں کا انسولین پر ردعمل بہتر ہوگیا جن کو یادداشت سے منسلک کیا جاتا ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ مونگ پھلی میں موجود متعدد اجزا دماغی صحت کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مونگ پھلی میں متعدد غذائی اجزا جیسے صحت بخش چکنائی، غذائی فائبر، وٹامنز، منرلز اور حیاتیاتی مالیکیولز موجود ہوتے ہیں، جن سے دماغ کو فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طرح مونگ پھلی L-arginine سے بھرپور گری ہے اور یہ جز سیکھنے اور یادداشت کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل فوڈ میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل 2025 میں جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ 16 ہفتوں تک مونگ پھلی کے روزانہ استعمال سے دماغ کی جانب خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں شامل افراد کے دماغوں میں خون کا بہاؤ 3.6 فیصد تک بڑھ گیا جبکہ زبانی یادداشت میں 5.8 فیصد بہتری آئی۔
خون دماغ میں آکسیجن اور غذائی اجزا پہنچاتا ہے تاکہ دماغی افعال درست طریقے سے کام کرسکیں۔
اکتوبر 2026 میں امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مونگ پھلی کا استعمال عادت بنانے سے خون میں گردش کرنے والی چکنائی میں مخصوص تبدیلیاں آتی ہیں۔
اس تحقیق میں 18 سے 33 سال کی عمر کے 63 صحت مند افراد کو ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنایا گیا۔
انہیں 3 گروپ میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو 6 ماہ تک روزانہ 25 گرام مونگ پھلی کھلائی گئی۔
دوسرے گروپ کو روزانہ 32 گرام یا 2 کھانے کے چمچ پینٹ بٹر کا استعمال کرایا گیا جبکہ تیسرے گروپ کو مونگ پھل کے تیل سے تیار کردہ مکھن کی 32 گرام کا استعمال کرایا گیا۔
تحقیق کے آغاز اور پھر 6 ماہ بعد ان افراد کے خون کے نمونے اکٹھے کیے گئے۔
محققین نے دریافت کیا کہ اس عرصے میں خون میں چکنائی کے پیمانے پر 51 فیصد تک تبدیلی آئی۔
بعد ازاں محققین نے 35 سے 65 سال کی عمر کے 27 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 1990 کی دہائی سے اکٹھا کرنا شروع کیا گیا تھا۔
محققین نے ان افراد کے خون کے نمونوں میں مونگ پھلی کے استعمال سے آنے والی تبدیلیوں کا موازنہ ذیابیطس کے نئے مریضوں کے نمونوں سے کیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مونگ پھلی کے استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اس گری سے ذیابیطس کا خطرہ 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔


