جب ایک شہید کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دفنایا گیا

hatikhel1793818266 0


عمرانی علوم میں تاریخ کی اہمیت محتاج وضاحت نہیں۔ یہ کسی قوم کے سفر زندگی کی ایک روداد ہوتی ہے۔ قوم کے مزاج طبع، نفسیاتی کیفیات، تہذیب وتمدن اور قوم کے رہنماؤں کی خوبیوں اورخامیوں کا عکس بھی پیش کرتی ہے۔

افراد اور اقوام، حال اور مستقبل تک ماضی کے اسی زینے کے وسیلے پہنچتے ہیں۔ جو قومیں اپنے ماضی یا تاریخ سے اگاہ نہیں ہوتیں وہ اپنے موجودہ اور آئندہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہوتی ہیں۔ باشعور افراد اور اقوام اپنے ماضی کی تاریخ سے سبق حاصل کرکے اپنے حال اور مستقبل کو سنوارتی ہیں۔ چنانچہ ازبس ضروری ہے کہ قوم اپنے ماضی کو پیش نظر رکھے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ اس پاس اپنے ماضی کی قابل اعتماد روداد تاریخ کی شکل میں موجود ہو کیونکہ جہاں ماضی کے واقعات اک علم نہیں وہاں مستقبل کی بلند نظری پیدا نہیں ہوسکتی۔

انسانی زندگی کے گزرے ہوئے واقعات بیان کرنے کو اصطلاح میں تاریخ کہتے ہیں۔ مختلف اقوام عالم کا آغاز وانجام کس طرح ہوا اور کن واقعات نے قوموں کے عروج و زوال پر اثر ڈالا یعنی تاریخ مختلف قوموں کے ظہور، آثار،ترقی،حالات واسباب، رسوم وعقائد اور مشہور لوگوں کے کارنامے بیان کرتی ہے اور جو واقعات ظہور پذیر ہوئے ان کے اسباب ونتائج بتاتی ہے۔ تاریخ انسانی تجربات زندگی کا وہ بلند مینار ہے جہاں سے ماضی کے اقوام کے آغاز و انجام کے اسباب و علل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ افکار اور کردار سے پرورش پاتی ہے۔ زندگی کے شاہراہوں پر اپنے نقش پا چھوڑ کر مستقبل کے لیے رہنمائی کا وسیلہ بنتی ہے۔

غیر منقسم ہندوستان (برصغیر ) کی سرزمین کو برطانوی سامراج کے چنگل سے آزاد کروانے کی خاطر جتنی مالی اور جانی قربانیاں پختونوں نے دی ہیں شاید ہی برصغیر کی کسی اور قوم نے دی ہوں۔ مگر بدقسمتی سے ان قربانیوں کے ثمرات اس قوم کو نہیں ملے جن ثمرات کی پختون قوم حقدار تھی۔ ثمرات تو دور کی بات کہ جنگ آزادی کی تحریک میں بھی پختون حریت پسندوںکا ذکر تک شامل نہیں ہے تاہم تاریخی حقائق کو دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔

اس سلسلے میں تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے جو کسی کو بھی معاف نہیں کرتی۔ جہاں تک 24اگست1930ء کو پیش آنے والے سانحہ سپین تنگی ہاتی خیل بنوں کے پس منظر کا تعلق ہے تو مئی 1930ء کو قصہ خوانی بازار پشاور میں انگریز سرکار نے یہاں کے عظیم حریت پسندوں اور خدائی خدمتگاروں پر ظلم و بربریت کے جو پہاڑ توڑے تھے اس سانحے کے ردعمل میں صوبے کے دیگر علاقوں کے خدائی خدمتگاروں کی طرح ضلع بنوں کے خدائی خدمتگاروں میں بھی سخت غم وغصہ پایا جاتا تھا۔ تاہم انہیں اپنے قائد باچاخان نے سخت تاکید کی تھی کہ کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہیئے جس سے ہماری تحریک اور عدم تشدد کی پالیسی متاثر ہو، لہذا صوبہ بھر کے خدائی خدمتگاروں کی طرح ضلع بنوں کے خدائی خدمتگار بھی اسی عدم تشدد کے فلسفہ اور پالیسی پر قائم و دائم رہے۔

اس لیے کوئی اور راستہ اپنانے کے بجائے سانحہ قصہ خوانی اور ٹکر ضلع مردان میں ایک پرامن احتجاجی جلسئہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جس میں معروف عالم دین اور خدائی خدمتگار قاضی فضل قادر اور گاوں عظیم ٹل کے ایوب خان ملک جو قبیلہ وزیر سے تعلق رکھتا تھا سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔

چونکہ قاضی فضل قادر کو گرفتار کرنے کے لیے پورے علاقے کے دیہاتوں پر چھاپے مارے جا رہے تھے تو ایوب خان ملک نے انہیں کہا آپ ہمارے ہاں آجائیں تاہم بعد میں انہیں رحیم داد خان نے بنوں میں پناہ دی۔ پہلا جلسہ عظیم گاوں میں منعقد کیا گیا۔ اس کے خلاف علاقے کے ملکان اور خان بہادروں کا خطاب حاصل کرنے والوں نے علاقے کے عوام کو دھمکیاں دیں کہ اگر کسی نے بھی جلسہ میں شرکت کی تو ان کی جائداد،گھر، مال مویشی نیلام اور اسے گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے گا اور ساتھ اسے عبرت ناک سزا بھی دی جائے گی۔ تاہم کسی بھی خدائی خدمتگار نے ان لوگوں کی دھمکی پر کان نہیں دھرے اور جلسے میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد دوسرا جلسہ گاوں لپڑی میں منعقد ہوا۔ وہ بھی کامیاب رہا اس کے بعد تیسراجلسہ گاوں شنوا جو قبیلہ خٹک کا علاقہ ہے وہاں منعقد ہوا اس طرح چھوٹے چھوٹے جلسے پورے علاقے میں کیے گئے، تاہم سب سے بڑا احتجاجی جلسہ 24 اگست 1930ء کو بمقام سپین تنگی ہاتی خیل میں منعقد کیا گیا۔ انگریز سرکار کو جب جلسے کی اطلاع پہنچی تو اس سے قبل تقریباً 80 خدائی خدمتگاروں کو گرفتار کیا گیا۔ جلسے میں شرکت کے لیے قاضی فضل قادر کسی طرح پہنچ گئے۔

ابھی جلسہ شروع نہیں ہوا تھا کہ انگریز فوج جس کی کمانڈ وہی انگریز کمانڈر کر رہا تھا جس نے قصہ خوانی بازار اور ٹکر مردان میں خدائی خدمتگاروں کے جلوس پر فائرنگ کا حکم دیا تھا، اپنے ٓفریدی سپاہیوں کے ساتھ جلسہ گاہ میں داخل ہوا، چونکہ ایک ہی پختون خون تھا اس لیے آفریدی سپاہیوں نے دور سے آوازیں لگانا شروع کردیں کہ وزیر بھائیو جلسہ گاہ سے نکلو اور اپنی جانو کو بچاو۔ مگر کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ اس دوران قاضی فضل قادر سٹیج پر آئے اور لوگوں کو تلقین کی کہ چونکہ ہم عدم تشدد پر یقین رکھنے والے ہیں اس لیے کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیئے جس سے ہماری عدم تشدد کی پالیسی پر آنچ آجائے اور اس کے بعد قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی۔

اس دوران انگریز کمانڈر چند سپاہیوں سمیت سٹیج پر چڑھ دوڑے اور قاضی فضل قادر کو داڑھی سے پکڑ کر نیچے گرانے کی کوشش ہو رہی تھی کہ گنج نامی خدائی خدمتگار سے اپنے عالم دین اور رہنما کی بے عزتی برداشت نہ ہو سکی۔ اس نے ایک زوردار ڈنڈا کمانڈر کے سر پر دے مارا۔جس کے جواب میں انگریز فوج نے گولیوں کی بارش شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں تقریباً 80 خدائی خدمتگار شہید اور دو سو سے زائد شدید زخمی ہوئے ۔ان زخمیوں میں قاضی فضل قادر بھی شدید زخمی ہوئے جنہیں ڈومیل ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال ہی میںدم توڑ گئے۔ جس کے بعد انگریز فوج نے ایک اور ظلم یہ کیا کہ شہید قاضی فضل قادر کی میت کو ان کے ورثا کے حوالہ کرنے سے انکار کردیا اور ان کی میت کو بنوں جیل میں دفن کرکے قید کر دیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں پھانسی پانے والے افراد کی میتوں کو ان کے ورثا کے حوالے کیا جاتا ہے مگر برصغیر پر قابض انگریز نے قاضی فضل قادر کی میت کو بھی نہیں بخشا اور اسے بنوں جیل میں دفن کر دیا۔

شہید فضل قادر کی قبر کو اس وقت جیل سے رہائی ملی جب 2002 میں ایم ایم اے کی صوبائی حکومت بنی اور بنوں سے تعلق رکھنے والے اکرم خان درانی صوبے کے وزیراعلیٰ منتخب کیے گئے۔ انہوں نے اس پرانی جیل کو ختم کرکے اس جگہ پارک بنانے کا حکم دیا اور قابل ستائش اقدام یہ کیا کہ اس پارک کو خدائی خدمتگار شہید قاضی فضل قادر کے نام سے منسوب کردیا اور ان کی قبر کو پختہ اور خوبصورت بناکر اسے باقاعدہ مزار کی شکل میں تعمیر کر دیا ہے۔ جہاں اب بھی لوگ ان کی مزار کی زیارت اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں۔ بقول شاعر:

لشکر کرے گا میری دلیری پہ تبصرے

مرکر بھی زندگی کی خبر چھوڑ جاوں گا

اگر ہم اپنی نئی نسل کو اپنی قومی آزادی کی تحریک سے اگاہ کرنا چاہتے ہیں،اپنے بچوں کو اپنی اصل تاریخ سے باخبر رکھنا چاہتے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ ہاتی خیل جیسے بے شمار واقعات کو اپنی قومی اور آزادی کی تاریخ کا حصہ بنائیں اور جدوجہد آزادی میں پیش آنے والے ان جیسے دیگر واقعات کو بھی اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ