معدنی ذخائر کی تلاش اور اہم قومی معاملات پارلیمنٹ میں لائے جائیں: اپوزیشن کا مطالبہ

399674 940703117


پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں نے بدھ کو باہمی اختلافات دور کرنے اور کل جماعتی کانفرنس پر مشاورت آگے بڑھانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات، گوادر، سندھ کے جزیروں اور فاٹا کے معاملات پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام فضل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اپوزیشن کا یہ اجتماع اس پیش رفت کے ایک دن بعد ہوا جب پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد میں فضل الرحمٰن کی حمایت کا خیرمقدم کرے گی، جب کہ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی ہر اس شخص کا خیرمقدم کرے گی جو اس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور اس کی جدوجہد کی حمایت کرے گا۔

اجلاس کے بعد بدھ کو رات گئے میڈیا سے بات چیت میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’جو اقدامات اب تک ہوئے ہیں، چاہے وہ گورنر راج کے حوالے سے ہوں، ایمرجنسی کے حوالے سے ہوں یا معدنی ذخائر کے حوالے سے ہوں، اس پر ہم نے قوم کی نمائندگی کی ہے۔ ہم نے عوام کی امانت کی بات کی ہے اور اس امانت کے تحفظ کے لیے ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایوان کے فلور پر یہ کہہ چکا ہوں کہ اگر حکومت عوام کے سامنے کچھ چیزیں نہیں رکھنا چاہتی، تو قومی اسمبلی، سینیٹ یا پارلیمان کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے؟

’اس حوالے سے لیت و لعل کیوں کیا جا رہا ہے اور فرار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟ ہم عوام کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں، جب کہ یہ عوام سے چوری چھپے سارے اقدامات اور فیصلے کرتے ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمٰن خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر وفاقی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان ثالثی کی اپنی کوششوں کے دوران وفاق پر اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کا مقصد یہ ہے کہ ایک اتحاد قائم کیا جائے جس سے پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئی ہے اور اسی ماہ اجلاس ہوگا، جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان اتفاق رائے کے لیے ایک کمیٹی بنی ہے، پاکستان بھر میں اتحاد قائم کیا ہے اور متفقہ مزاحمت کریں گے۔‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پرسوں کی ملاقات میں عمران خان نے بتایا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر 192 تک گیا ہے، ان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کی جان کی حفاظت ہمارا قومی فریضہ ہے۔ مولانا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس طرح انہوں نے گورنر راج کے خلاف آواز اٹھائی ہے، ہم نے اس کے خلاف بطور قوم کھڑا ہونا ہے۔‘

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’یہ سسٹم جب سے آیا ہے اس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہے۔ انہوں نے الیکشن لوٹا اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ آور ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگائی اور عوام کو کہا کہ مینڈیٹ نہیں مانتے، جس ملک میں ادارے نہ رہیں تو وہ تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ