22 سال بعد خلائی دوربین کا سفر تمام ملبہ زمین پر گرنے کا خطرہ

news 1793862082 2675



news 1793862082 2675

 (ویب ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور خلائی دوربین نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری کا تقریباً 22 سالہ مشن اختتام پذیر ہوگیا۔

یہ خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہوگیا، جہاں شدید درجہ حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر تباہ ہونے کا امکان ہے، تاہم بعض ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

امریکی خلائی فورس کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3 ہزار 200 پاؤنڈ وزنی خلائی دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوئی، تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوربین کا کوئی ملبہ زمین پر گرا یا نہیں۔

ناسا نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ اس خلائی جہاز کے زمین پر گرنے سے کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کا امکان تقریباً 2 ہزار 100 میں سے ایک ہے،سوئفٹ آبزرویٹری کو 20 نومبر 2004 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا، اس کا بنیادی مقصد کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں، جنہیں گاما رے برسٹس کہا جاتا ہے، کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنا تھا،یہ دوربین اپنی تیز رفتار حرکت اور فوری طور پر سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے باعث بلیک ہولز سے خارج ہونے والی توانائی، کائناتی دھماکوں اور دیگر غیر معمولی فلکیاتی واقعات کا مشاہدہ کرتی رہی۔

یہ بھی پڑ ھیں:ایران کا 6 ہزار کلومیٹر رینج کے بیلسٹک میزائل بنانے کا اعلان

ناسا کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سورج کی سرگرمیوں میں اضافے نے دوربین کے مدار سے نیچے آنے کا عمل تیز کردیا، 2024 میں سورج اپنے 11 سالہ شمسی چکر کی بلند ترین سرگرمی کے مرحلے میں پہنچا، جس کے دوران شمسی شعلوں اور کورونا ماس ایجیکشنز کے باعث زمین کی فضا پھیل گئی، اس سے دوربین پر فضائی مزاحمت بڑھ گئی اور وہ بتدریج زمین کے قریب آتی چلی گئی۔

ناسا نے دوربین کو بچانے کے لیے رواں سال جولائی میں ایک خصوصی ریسکیو مشن بھی روانہ کیا تھا، اس مقصد کے لیے تیار کردہ لنک نامی خلائی جہاز کو سوئفٹ کے ساتھ منسلک ہوکر اسے دوبارہ مستحکم مدار میں پہنچانا تھا تاہم یہ کوشش ناکام ہوگئی۔

دوسری جانب  چینی سائنسدانوں کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے دنیا کی سب سے بڑی سنگل ڈش ریڈیو دوربین ’فاسٹ‘ کے پرانے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے اس پراسرار سگنل کا سراغ لگایا۔

 غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ سگنل زمین سے تقریباً 238 نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کے نظام K2-155 کی سمت سے موصول ہوا۔ اس نظام میں زمین سے بڑے 3سیارے موجود ہیں، جن میں سے ایک ایسے خطے کے قریب واقع ہے جہاں پانی کی موجودگی کے لیے سازگار حالات ہوسکتے ہیں۔

 سائنسدانوں نے اس سگنل کو NBS 260108 کا نام دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کی ریڈیو فریکوئنسی وقت کے ساتھ بتدریج تبدیل ہوتی رہی۔ مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ دوربین کے 19 ریسیور بیمز میں سے صرف ایک میں یہ سگنل ریکارڈ ہوا، جبکہ باقی 18 میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

 کیا یہ کسی دوسری دنیا سے آنے والا پیغام ہے یا محض ٹیکنالوجی کی مداخلت؟

 سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ اس دریافت کو خلائی مخلوق کی موجودگی کا ثبوت نہیں کہا جاسکتا۔ سگنل انسانی ٹیکنالوجی یا آلات کی مداخلت کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، جس کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

 تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے دی ایسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔
 خیال رہے کہ بلغاریہ کی مشہور نجومی بابا وانگا سے منسوب نومبر 2026 میں خلائی مخلوق کی زمین پر آمد کی پیشگوئی ایک بار پھر زیرِ بحث ہے جب اس سال سائنسدانوں نے خلا میں ایک پراسرار ریڈیو سگنل دریافت کیا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ