کراچی کے ضلع وسطی کی انویسٹی گیشن پولیس کینیڈا پلٹ بزرگ جوڑے کے قتل، سافٹ ویئر انجنیئر کے جاں بحق ہونے اور فلاحی ادارے میں لاکھوں روپے کی ڈکیتی کے تین بڑے واقعات میں کوئی پیشرفت نہ کرسکی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل انویسٹی گیشن پولیس نارتھ کراچی بی اماں پارک کے قریب گھر سے کینیڈا سے آئے بزرگ میاں اور بیوی کے قاتلوں کا تاحال سراغ نہ لگا سکی۔
میاں اور بیوی کے بہیمانہ قتل کو 20 روز گزر گئے، جس میں اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں سامنے نہیں آسکی۔ سرسید تھانے کے علاقے نارتھ سیکٹر الیون سی ون بی اماں پارک کے سامنے گھر کے گراؤنڈ فلور سے گزشتہ ماہ 14 اکتوبر کو 70 سالہ یامین اور ان کی اہلیہ 65 سالہ نفیس اختر کی خون میں لت پت لاشیں ملیں تھیں۔
لاشوں کے معائنے میں مقتولین کے سر پر چوٹ کے نشانات پائے گئے تھے، دونوں مقتولین میاں اور بیوی کینیڈا سے اپنا مکان فروخت کرنے آئے تھے جبکہ گھر میں مرمت اور تزئین و آرائش کا کام بھی کرا رہے تھے۔
دہرے قتل کے بعد پولیس نے گھر میں کام کرنے والوں سمیت دیگر افراد کو طلب کر کے بیانات بھی قلمبند کیے تھے جبکہ سرسید پولیس نے مقتول یامین کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کیا تھا۔
انویسٹی گیشن پولیس کینیڈا سے آئے بزرگ میاں اور بیوی کے قتل کا تاحال کوئی ٹھوس ثبوت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سینٹرل انویسٹی گیشن پولیس گزشتہ ماہ 2 اکتوبر کو نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی میں فائرنگ سے گردن پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو کر خود ہی گاڑی چلا کر نجی اسپتال پہنچ کر جاں بحق ہونے والے سوفٹ ویئر انجینئر مقتول صبیح صدیقی کے قاتلوں کا بھی تاحال سراغ نہیں لگا سکی۔
مقتول کی گاڑی سے پولیس کو نائن ایم ایم پستول، 17 گولیاں، 7 لاکھ روپے نقدی، موبائل فون اور دیگر سامان برآمد ہوا تھا۔ مقتول نارتھ کراچی میں نجی بینک سے 7 لاکھ روپے نقدی نکلوا کر جا رہا تھا کہ اسے سلیم سینٹر کے قریب مین روڈ پر یوٹرن لیتے ہوئے موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس کے قتل کا مقدمہ سرسید پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا تھا۔
مقتولین کے اہلخانہ تاحال انصاف کے منتظر ہیں کہ پولیس کب قاتلوں کو گرفتار کریگی جبکہ ڈسٹرکٹ سینٹرل انویسٹی گیشن پولیس تقربیاً 3 ماہ گزرنے کے باوجود سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر میں 65 لاکھ روپے کی ڈکیتی میں ملوث ڈاکوؤں کا بھی تاحال سراغ نہیں لگا سکی۔
رواں سال 7 اگست بروز جمعے کی سہ پہر 4 ڈاکوؤں نے سمن آباد تھانے کی حدود سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر کے اندر گھس کر عملے کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر تنخواہ کے لیے بینک سے لائی گئی نقدی 65 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوئے تھے۔
انویسٹی گیشن پولیس تاحال ڈاکوؤں کا سراغ نہ لگا سکی جبکہ ایدھی سینٹر میں واردات کی اطلاع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے بھی نوٹس لیا گیا تھا جبکہ سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی پولیس کی تفتیش ، ڈاکوؤں کی گرفتار اور لوٹی گئی نقدی 65 لاکھ روپے کی برآمدگی کے حوالے سے 31 اگست کو خط بھی لکھا تھا۔

