اسرائیلی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں سپیکر کے الیکشن کا مطالبہ

news 1793879246 8917



news 1793879246 8917

(ویب ڈیسک) اسرائیل کی نو منتخب پارلیمنٹ کے اجلاس سے پانچ روز پہلے اپوزیشن کی دو جماعتوں یسرائیل بیتینو اور ڈیموکریٹس  نے  26 ویں کنیست (پارلیمنٹ) کے افتتاحی اجلاس میں سپیکر کو تبدیل کرنے کے لیے ووٹنگ کا مطالبہ کر دیا۔ 
 یسرائیل بیتینو اور ڈیموکریٹس نے 25 ویں کنیست کے سبکدوش ہونے والے سپیکر امیر اوہانا کو الگ الگ خطوط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ منگل کو ہونے والے 26 ویں کنیست کے افتتاحی اجلاس کے ایجنڈے میں نئے سپیکر کے انتخاب کو شامل کیا جائے۔

گزشتہ ہفتے  27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کو پارلیمان میں اکثریت سے ہاتھ دھونا پڑے، جبکہ ان کے مخالف چھ سیاسی جماعتوں نے کنیست کی 120 میں سے 67 نشستیں حاصل کر لیں۔ اس اکثریت کی بدولت ان کے پاس اتنی تعداد موجود ہے کہ وہ اگلے ہفتے نئی پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز پر ہی — نئی حکومت بننے سے پہلے ہی (جس میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے) — امیر اوہانا کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹا سکیں۔

سپیکر کنیست کی کارروائی کو کنڈکٹ کرنے میں اور اپنے نائبین کے ساتھ مل کر قانون سازی کے ایجنڈے کو کنیست کے اجلاسوں میں رو بہ عمل لانے میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ امیر اوہانا اپنے جانشین کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ کو روک نہیں سکتے؛  نئے سپیکر کے انتخاب کے لیے صرف سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، بشرطیکہ اپوزیشن جماعتیں کسی ایک امیدوار پر متفق ہو جائیں۔

تاہم، اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ نفتالی بینیٹ کی جماعت ‘بی یاحاد’ (B’Yachad) نے  حالیہ کنیست میں اپوزیشن لیڈر اور اپنی جماعت کے دوسرے اہم رہنما یائر لاپید کا نام تجویز کیا ہے۔ لاپید  کی حمایت ‘یسرائیل بیتینو کے سربراہ ایویگڈور لیبرمین بھی کر رہے ہیں۔ لیکن گادی آئزن کوٹ کی جماعت ‘یاشار’ (Yashar)  یائیر لاپید کو سپیکر کے کلیدی عہدہ کیلئے نامزد کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ چاہتی ہے کہ یہ عہدہ ان کی جماعت کے کسی رکنِ پارلیمنٹ کو ملے — ایک ایسا مطالبہ جسے دیگر جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔ کیونکہ 21 ارکان کے ساتھ  چینج بلاک کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود پرائم منسٹر اور سپیکر کے دونوں کلیدی عہدے اس نئی پارٹی کو دینے کے بعد اتحاد ابتدا مین ہی طاقت کے توازن سے محروم ہو سکتا ہے۔

یائیر لاپد کی پارٹی یش عتید ہے جس نے نفتالی بینیٹ کی  دائیں بازو کی پارٹی نفتالی 2026 کے ساتھ انتخابی اور پارلیمانی اتحاد کیا ہے۔ دونوں پارٹیوں کی انفرادی حیثیت برقرار ہے تاہم پارلیمنٹ میں دونوں کو ایک اتحاد سمجھا جائے گا کیونکہ انہوں نے ایک ہی لسٹ پت الیکشن لڑا ہے۔ نفتالی بینٹ خود وزیراعظم رہےہ یں لیکن اب وہ اس عہدہ کے امیدوار نہین ہیں۔ یائیر لاپد نیتن یاہو کی حکومت کے دوران اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے نئے چینج بلاک کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور بظاہر سب کے لئے قابل قبول رہنے کے سبب اب انہیں سپیکر کے عہدہ کے لئے تجویز کیا جا رہا ہے۔

 10 اکتوبر کو  26 ویں کنیست کے  پہلے اجلاس میں ارکان کا حلف ہو گا۔ تب تک چینج بلاک کے پاس وقت ہے کہ وہ سپیکر کے نام پر اتفاق کر لیں۔ 





Source link

متعلقہ پوسٹ