اسلام آباد، 18 مارچ 2026 — ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک 80 فیصد سے زائد تیل کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جن میں سے بیشتر ہرمز آبنائے سے گزر کر کراچی اور پورٹ قاسم پہنچتی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کے اسٹاک صرف 25-26 دنوں کے لیے باقی ہیں، جبکہ عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ (پیٹرول تقریباً 321 روپے فی لیٹر، ڈیزل 336 روپے فی لیٹر)، سرکاری دفاتر میں چار روزہ ہفتہ وار، سرکاری گاڑیوں کی 60 فیصد بندش، تعلیمی اداروں کی دو ہفتے کی بندش، اور ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے آسٹریٹی اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں ہرمز آبنائے کی بندش کو معاشی خطرہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، حکومت کے پاس اب بنیادی طور پر دو آپشنز باقی رہ گئے ہیں:
قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ — عالمی مارکیٹ کے مطابق قیمتوں کو مزید بڑھا کر ڈیمانڈ کم کرنا، جو مہنگائی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
فیول راشننگ سسٹم — سری لنکا کی طرز پر کیو آر کوڈ بیسڈ نظام متعارف کرانا، جس کے تحت گاڑیوں کو ہفتہ وار محدود مقدار (جیسے 15-20 لیٹر) میں پیٹرول/ڈیزل ملے گا تاکہ ہوarding روکا جا سکے اور سپلائی برابر تقسیم ہو۔
ماہر معیشت ڈاکٹر عابد سلیری (Sustainable Development Policy Institute) کے خیال میں، تعلیمی اداروں اور دفاتر کو جاری رکھنے کے لیے راشننگ ناگزیر ہو سکتی ہے۔ ماہر توانائی خالد ولید نے شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
علاقائی ممالک بھی اس بحران سے متاثر ہیں:
بنگلہ دیش نے یونیورسٹیز بند کر کے فیول سیل کی حد مقرر کی ہے۔
نیپال نے ککنگ گیس کی راشننگ شروع کر دی ہے۔
میانمار اور دیگر نے بھی فروخت کی حد اور راشننگ جیسے اقدامات اٹھائے ہیں۔
حکومت متبادل راستوں (جیسے ریڈ سی سے سعودی عرب سے تیل) سے درآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحران طول پکڑا تو معاشی اثرات شدید ہوں گے، بشمول افراط زر میں اضافہ اور فارن ایکسچینج ریزروز پر دباؤ۔ عوام کو غیر ضروری سفر کم کرنے اور پنک بائینگ سے گریز کی اپیل کی جا رہی ہے۔

