انتخابی شکست کے بعد ہیگسیتھ کو ایران جنگ پر ریپبلکنز کی مخالفت کا سامنا: رپورٹ

hegseth


واشنگٹن: سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ایران جنگ پر اپنی ہی جماعت کے ریپبلکن قانون سازوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ کئی ریپبلکن ارکان کا خیال ہے کہ اسی جنگ کی وجہ سے پارٹی کو انتخابات میں ہار ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق بہت سے ارکان کا استدلال ہے کہ ہیگسیتھ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جنگ کے بعد کے نتائج کے منصوبے کے بغیر ایران پر حملے شروع کرنے پر قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ کئی ریپبلکنز نے ان پر مزید فوجی کشیدگی پر زور دینے کا الزام بھی لگایا، حالانکہ اس بات کے بہت کم آثار تھے کہ مسلسل حملے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایوان کے ریپبلکنز سے توقع ہے کہ وہ چند دنوں میں پینٹاگون کے سربراہ کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ریپبلکن قانون ساز تھامس میسی نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے ہیگسیتھ کے مواخذے کے لیے ووٹ کی تجویز پیش کریں گے۔ ایکس پر انہوں نے کہا کہ ہیگسیتھ کا استعفیٰ ہی واحد صورت ہے جس میں وہ مواخذے کے آرٹیکلز پیش نہیں کریں گے۔
ایران کے خلاف جنگ سے امریکہ کو 47 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے اور اس نے مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت کا بحران پیدا کیا، جس سے 3 نومبر کو بہت سے ووٹر پارٹی سے دور ہو گئے۔ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی وسط مدتی نقصان کا ذمہ دار جنگ کو ٹھہرایا، تاہم صدر کا مؤقف ہے کہ انہوں نے درست فیصلہ کیا۔
سی این این کے مطابق پینٹاگون کے ایک سابق سینئر عہدیدار نے کہا کہ وزیر دفاع کے خلاف رخ بدلنا شروع ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل ہیگسیتھ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ہیگسیتھ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی مواخذے کی کوشش کرنے والے سیاست دانوں سے خوفزدہ ہوں گے، اور وہ ٹرمپ کی مدت کے اختتام تک محکمے کی قیادت کے لیے سو فیصد پرعزم ہیں۔
دوسری جانب سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے مشیروں سے پوچھا ہے کہ کیا ہیگسیتھ کو عہدے پر رہنا چاہیے۔ رائٹرز نے ٹرمپ کے ایک مشیر کے حوالے سے کہا کہ جنگ کی وجہ سے ہیگسیتھ کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ مشیر کے مطابق جنگ کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرایا جائے گا، اور وہ ٹرمپ نہیں ہوں گے۔

متعلقہ پوسٹ