تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کے خلاف ڈنمارک میں طلبہ سڑکوں پر

denmark d


کوپن ہیگن: حکومت کے مجوزہ تعلیمی وظائف میں کٹوتیوں کے خلاف ڈنمارک کے دارالحکومت میں ہزاروں طلبہ نے سٹی ہال اسکوائر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے "بس بہت ہو گیا” کے نعرے لگائے اور ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر طلبہ کی مالی امداد برقرار رکھنے اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق نعرے درج تھے۔
طلبہ تنظیموں کے مطابق ملک کے 57 تعلیمی اداروں میں تقریباً 40 ہزار طلبہ نے ہڑتال بھی کی۔
ڈنمارک میں 1970 سے 18 سال سے زائد عمر کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو والدین کی آمدنی سے قطع نظر سرکاری وظیفہ ملتا ہے۔ اس وقت والدین کے ساتھ رہنے والے طلبہ کو ماہانہ 1,154 ڈینش کرونر جبکہ الگ رہنے والوں کو 7,426 کرونر دیے جاتے ہیں۔
نئی تجویز کے تحت جن طلبہ کے والدین کی سالانہ آمدنی 7 لاکھ کرونر سے زیادہ ہے، ان کے وظائف ختم کر دیے جائیں گے، جبکہ 4 لاکھ 19 ہزار 589 سے 7 لاکھ کرونر سالانہ آمدنی والے والدین کے بچوں کے وظائف میں کمی کی جائے گی۔ وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے مطابق اس سے تقریباً 14 ہزار طلبہ وظائف سے محروم ہوں گے اور مزید 8 ہزار کی امداد کم ہو جائے گی۔
طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کا نظام طلبہ کی مالی معاونت کے لحاظ سے دنیا کے مضبوط ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے اور کٹوتیوں سے نوجوانوں کے لیے تعلیم کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ حکومت کا موقف ہے کہ بچنے والی رقم دفاعی اخراجات کے لیے مختص کی جا سکے گی۔
یہ احتجاج فرانس سے شروع ہونے والی طلبہ تحریک کا حصہ ہے جو حالیہ ہفتوں میں یورپ کے دیگر ممالک تک پھیل چکی ہے۔ فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بھی نوجوان مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور تعلیمی سہولتوں میں کمی کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ