واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی میں شدید ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ ٹیکساس، کنساس، ساؤتھ کیرولائنا، آئیووا، نارتھ کیرولائنا اور اوہائیو جیسے ریپبلکن گڑھوں میں شکست نے پارٹی کو قیادت کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ حکومت پارلیمنٹ میں کیسے کام کرے گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے بعد پارٹی کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
نائب صدر جے ڈی وینس کو طویل عرصے سے ٹرمپ کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدواروں کی بھرپور مہم چلائی اور پارٹی کے لیے فنڈز بھی جمع کیے، لیکن اس شکست کے بعد ان کی اپنی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ گئی ہے۔ ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے نتائج کو "بلیو سونامی” اور "واٹرگیٹ کے درجے کی عوامی مستردگی” قرار دیا۔ ان کے مطابق پارٹی اس لیے نہیں ہاری کہ حامی گھروں میں بیٹھے رہے، بلکہ اس لیے ہاری کہ سابق ریپبلکن ووٹر ڈیموکریٹس کی طرف چلے گئے۔ کروز نے مہنگائی، بدعنوانی، ایران جنگ اور ٹیرف کو ووٹروں کی ناراضی کی بنیادی وجوہات بتایا۔
ٹرمپ کابینہ کے کئی رہنما اور خود ٹرمپ بھی ایران جنگ اور مہنگائی کو شکست کا سبب مان چکے ہیں، جس کے بعد پارٹی کے سینئر رہنما ٹرمپ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں اور قیادت سے سخت فیصلوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ملنے کے بعد ڈیموکریٹس وزیرِ جنگ پیٹ ہیگ سیتھ کا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں، جس سے ان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ امریکہ میں ایک بار پھر نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام مہنگائی، بڑھتے اخراجات، بچوں کی دیکھ بھال کی لاگت اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور انہیں مزید دو سال انتظار پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کھوکھلے وعدوں کے بجائے ٹھوس ریلیف چاہتے ہیں۔

