بیلجیئم میں مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کے گھروں کی تلاشی کی اجازت، متنازعہ قانون منظور

police


برسلز: بیلجیئم کی پارلیمنٹ نے جمعہ کی صبح ایک متنازعہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت پولیس کو ان مشتبہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی جنہوں نے ملک چھوڑنے کے احکامات نظر انداز کیے ہیں۔ رات بھر جاری رہنے والی طویل بحث کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے کے قریب قانون سازوں کی اکثریت نے اسے منظور کیا۔
یہ اقدام وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد تارکین وطن کی آمد محدود کرنا اور ملک میں رہنے کا حق مسترد کیے جانے والوں کی بے دخلی بڑھانا ہے۔
قانون کے تحت تلاشی ان افراد کے گھروں تک محدود ہوگی جنہیں بیلجیئم میں پناہ دینے سے انکار کیا گیا، جنہوں نے ملک چھوڑنے کے احکامات نظر انداز کیے اور جنہیں عوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ تلاشی کے لیے تفتیشی جج کی منظوری ضروری ہوگی اور یہ امیگریشن حکام کی موجودگی میں صرف صبح 5 بجے سے 9 بجے کے درمیان ہو سکے گی۔
انسانی حقوق کے گروپوں اور وکلاء نے قانون کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ امیگریشن کے نفاذ کے لیے پولیس کو نجی گھروں میں داخلے کی اجازت دینا آئینی حقوق اور رازداری کے قوانین کو کمزور کرنے کا خطرہ ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ووٹ سے پہلے قانون سازوں پر زور دیا تھا کہ وہ اسے مسترد کر دیں، اور کہا تھا کہ یہ غیر دستاویزی تارکین وطن کی مدد کرنے والوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ بدھ کی شام تقریباً 3 ہزار افراد نے برسلز کے پیلس آف جسٹس کے گرد انسانی زنجیر بنائی، جبکہ بیلجیئم کے میڈیا کے مطابق ملک بھر میں 50 سے زائد دیگر مظاہرے اور اجتماعات ہوئے۔ حکومت نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے ان لوگوں کے لیے ملک بدری کے احکامات نافذ کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے جنہیں عوامی نظم و ضبط یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ