امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا، ٹرمپ نے فیصلے کو "قوم کی توہین” قرار دیا

images 11 6


واشنگٹن
امریکی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر نافذ کردہ ٹیرف اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے اس فیصلے کو چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ نے جس 1977ء کے قانون "انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ” (IEEPA) کے تحت ٹیرف نافذ کیے، وہ قانون صدر کو ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔ چیف جسٹس رابرٹس نے لکھا کہ صدر کا یہ دعویٰ کہ وہ "لامحدود مقدار، مدت اور دائرہ کار” کے ٹیرف عائد کر سکتے ہیں، ایک غیر معمولی اختیار ہے جس کے لیے واضح قانونی منظوری ضروری تھی۔
فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ٹرمپ سے پہلے کسی بھی صدر نے اس قانون کو ٹیرف لگانے کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اکثریتی فیصلے میں جسٹس نیل گورسچ اور جسٹس ایمی کونی بیریٹ بھی چیف جسٹس کے ساتھ شامل رہے، جبکہ جسٹس کلیرنس تھامس، سیموئل الیٹو اور بریٹ کیونا نے اختلافی رائے دی۔
ٹرمپ کا شدید ردِعمل
فیصلے کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی اکثریت کو "قوم کے ساتھ غداری” کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ "غیر محب وطن” ججوں نے سنایا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ دیگر قانونی اختیارات کے تحت 10 فیصد عالمی ٹیرف جلد نافذ کریں گے۔
ریفنڈ کا پیچیدہ معاملہ
فیصلے کے نتیجے میں امریکی حکومت کو 175 ارب ڈالر سے زائد کی رقم درآمد کنندگان کو واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔ گزشتہ دسمبر تک حکومت نے ان ٹیرف کے ذریعے 130 ارب ڈالر سے زیادہ وصول کیے تھے۔ تاہم عدالت نے اس بارے میں فیصلے میں کچھ نہیں کہا کہ یہ رقم واپس کی جائے گی یا نہیں — ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ماتحت عدالتوں میں جائے گا۔
اثرات اور آگے کی راہ
یہ فیصلہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کا سب سے بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ فیصلے سے اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر لگائے گئے ٹیرف متاثر نہیں ہوئے کیونکہ وہ کسی اور قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف واپس کرنے کے بجائے قانون سازی کا راستہ اختیار کرے گی۔ ٹرمپ نے بھارت، پاکستان، چین اور برطانیہ سمیت درجنوں ممالک پر یہ ٹیرف عائد کیے تھے جن میں چین پر 145 فیصد اور بھارت اور برازیل پر 50 فیصد تک ٹیرف شامل تھے۔

متعلقہ پوسٹ