واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد کانگریس وومن الہان عمر نے منیاپولس میں صومالی کمیونٹی کی خواتین کے ساتھ روایتی رقص کیا۔ انتخابی مہم کے دوران مخالفین نے ان کے خلاف خوب پروپیگنڈا بھی کیا تھا۔ تقریب میں روایتی صومالی گیت گائے گئے اور شرکاء نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ جشن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور مداح انہیں بے حد پسند کر رہے ہیں۔
مینیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر نے ریپبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دے کر مسلسل پانچویں مدت کے لیے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ 2019 سے اس حلقے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکہ آنے والی الہان عمر طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کی امیگریشن مخالف تنقید کا نشانہ رہی ہیں۔
انتخابات میں ڈیموکریٹک خواتین نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار ایوانِ نمائندگان میں 100 سے زائد نشستیں حاصل کیں۔ کامیاب ہونے والی خواتین میں نیویارک سے الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، مشی گن سے رشیدہ طلیب اور مینیسوٹا سے الہان عمر شامل ہیں۔ گورنر کے عہدوں پر بھی خواتین نے اہم کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ جارجیا سے کیشا لانس باٹمز امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔

