مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسکولوں پر اسرائیلی شکنجہ، اسرائیلی نصاب اپنانے کا دباؤ

gaza school


یروشلم: اسرائیل مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسکولوں پر اپنا شکنجہ کس رہا ہے۔ اساتذہ پر پابندیاں اور اسرائیلی نصاب اپنانے کا دباؤ شہر میں فلسطینی تعلیم کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اساتذہ کو داخلے کے پرمٹ سے انکار سب سے نمایاں پابندیوں میں سے ایک ہے۔ مشرقی یروشلم بھی مغربی کنارے کی طرح غیر قانونی طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے، مگر اسرائیل اسے اپنے زیرِ کنٹرول متحد یروشلم کا حصہ سمجھتا ہے۔
مغربی کنارے کے شہر البیرہ کے رہائشی 66 سالہ کیمسٹری کے استاد جمال شلبی 1998 سے مشرقی یروشلم میں پڑھا رہے ہیں اور روزانہ اسرائیلی چیک پوائنٹس سے گزرتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ 2026-27 تعلیمی سال کے اختتام پر پرمٹ ختم ہونے کے بعد منسوخ کر دیے جائیں گے۔ پرمٹ جنوری اور ستمبر دونوں میں تاخیر کا شکار ہوئے، جس پر اسکولوں نے ہڑتالیں کیں۔ ان کے مطابق 2023 میں غزہ جنگ کے بعد سے پابندیاں سخت ہیں: اساتذہ مسجدِ اقصیٰ نہیں جا سکتے اور نہ ہی طلبہ کے ساتھ فیلڈ ٹرپس پر جا سکتے ہیں، کیونکہ پرمٹ صرف کام کی جگہ تک محدود ہیں۔
اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم ایر امیم کی رپورٹ کے مطابق حکومتی منصوبہ بظاہر سماجی و اقتصادی فرق کم کرنے کے لیے ہے، مگر اس کا مقصد اسرائیلی نصاب پڑھنے والے فلسطینی طلبہ کی تعداد بڑھانا بھی ہے۔ منصوبے کے تعلیمی بجٹ کا تقریباً نصف اسرائیلی نصاب کی تدریس بڑھانے پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ نئے سرکاری فنڈ والے اسکول کھولنے کے لیے اسرائیلی نصاب اپنانا شرط ہے۔ رپورٹ میں ایک ایسے قانون سے بھی خبردار کیا گیا ہے جو فلسطینی اداروں سے یونیورسٹی ڈگری رکھنے والے اساتذہ کی ملازمت پر پابندی لگاتا ہے، جس سے اساتذہ کی موجودہ کمی بڑھ سکتی ہے۔
اسرائیلی نصاب پڑھنے والے فلسطینی طلبہ کی تعداد 15 سال پہلے صرف سینکڑوں میں تھی، 2020 تک 10 ہزار سے زیادہ ہوئی، فلسطینی حکام کے مطابق 2024 تک تقریباً 20 ہزار اور اگلے سال 27 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ 2026-27 میں ان کا اندازہ 45 ہزار سے زائد طلبہ کا ہے، یعنی شہر کے کل طلبہ کا تقریباً 38 فیصد۔
نام ظاہر نہ کرنے والے ایک پرنسپل نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ پالیسی نجی اور کمیونٹی اسکولوں تک بھی پھیلی ہے اور انکار کی صورت میں فنڈنگ، مالی مدد اور آپریٹنگ لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق نگرانی میں کلاس رومز کا معائنہ، طلبہ کے بیگ کی تلاشی اور فلسطینی نصابی کتب کی ضبطی، پرنسپلز و اساتذہ کی تقرری میں مداخلت، اور طلبہ کو سوشل میڈیا پوسٹس پر تادیبی کمیٹیوں اور پولیس سمن کے ذریعے نشانہ بنانا شامل ہے۔
ایر امیم کے مطابق مشرقی یروشلم کے اسکولوں میں 2,283 کلاس رومز کی کمی ہے اور بلدیہ کے منصوبے مکمل ہونے پر بھی 2032 تک تقریباً 1,100 کی کمی رہے گی۔ بلدیہ کمی کا اندازہ 1,500 لگاتی ہے، جسے ایر امیم پرانے ڈیٹا پر مبنی قرار دے کر متنازع کہتی ہے۔ والدین کمیٹیوں کی یونین کے ترجمان رمضان عوض کے مطابق بعض کلاسوں میں 42 تک طلبہ ہیں اور کچھ اسکول رہائشی اپارٹمنٹس یا تجارتی عمارتیں کرائے پر لے کر چلا رہے ہیں، جہاں صحن، لیبارٹریز اور غیر نصابی سرگرمیوں کے کمرے نہیں ہوتے۔

متعلقہ پوسٹ