
(ویب ڈیسک) امریکہ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت ہو جانے کا ایک متوقع امپیکٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنیوں اور ہائی ٹیک کمپنیوں کے بزنس پر آیا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں آنے والے زلزلے میں اے آئی اور ہائی ٹیک کمپنیوں کے شئیرز کی قیمتیں بھی گر گئی ہیں۔
اے آئی اور ہائی ٹیک کمپنیوں پر امریکہ کے مڈ ٹرم الیکشن کا امپیکٹ آنے کی وجہ یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی قانون سازی اور کسی حد تک حکومتی امور پر بھی گرفت بڑھنے سے امریکہ میں نئے ڈیٹا سنٹرز کی تعمیر مشکل ہو جانے کا خدشہ ہے۔
دہشت اور افراتفری؛نیویارک میں آج کیا چل رہا ہے؟
وسط مدتی انتخابات (Midterms) کے بعد وال سٹریٹ پر سراسیمگی؛ مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق اسٹاکس کی ریکارڈ فروخت سے کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ جمعرات کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس میں ٹیکنالوجی کے حصص سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں ایک ہی سیشن میں تقریباً 2.5 ٹریلین (25 کھرب) ڈالر کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو گئی اور نیس ڈیک کمپوزٹ (Nasdaq Composite) انڈیکس ‘کوریکشن’ (correction) کے زمرے میں داخل ہو گیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے تجزیئے کتنی تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔
مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کے بعد کم از کم امریکہ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی سست ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس خدشے نے اے آئی بزنس میں بوم کی فورکاسٹوں کو شدید نوعیت کے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ مارکیت میں خوف نے جنم لیا جو خوفناک رفتار سے بڑھ کر دہشت میں بدل گیا اور شئیرز فروخت کرنے کی شدید لہر چل پڑی۔ اس لہر نے افراتفری کو جنم دیا۔
مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی جارہی ہے اور ٹیک کمپنیوں کے شیئر تیزی سے فروخت ہورہے ہیں۔
امریکہ، یورپ اور ایشیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ویلیو کم ہوگئی ہے اور سٹاک مارکیٹس سے 25 کھرب ڈالر اُڑ چکے ہیں۔
کئی ڈیموکریٹک امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم میں ماحول کے تحفظ کے نکتہ نظر سے یہ بھی اعلانات کئے تھے کہ وہ جیتے تو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی کی رفتار کم کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کی جیت کے بعد سٹاک مارکیٹ میں شئیرز کے ساتھ ہو رہے ظلم پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بدترین دنوں میں سے ایک دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سٹاک مارکیٹ اس لیے گری کیونکہ منگل کو ڈیموکریٹس جیتے تھے۔ اس گراوٹ پر افسوس ہوا، لیکن اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں‘۔
سٹاک مارکیٹس میں کہرام برپا، وجوہات کیا ہیں؟
ڈو جونز انڈسٹریل ایوریج (Dow Jones) میں اس وقت شدید مندی دیکھی جا رہی ہے اور گزشتہ سیشن میں مارکیٹ 51,523.06 پوائنٹس پر بند ہوئی ہے، جس میں 1,833.06 پوائنٹس (-3.44%) کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ امریکی مڈٹرم الیکشن (Midterm Elections) کے نتائج کے بعد مارکیٹ سے پوسٹ-الیکشن تیزی (surge) مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ اس وقت مارکیٹ بلاک چین ری ایکشن جیسی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس صورتحال کے سنبھلنے کی جلد کوئی امید بھی نہیں۔
اس بڑی گراوٹ اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کی اہم فیچر یہ سامنے آ رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کریش: وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی اور خاص طور پر سیمی کنڈکٹر (Chipse) کمپنیوں کے شیئرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مڈٹرم الیکشن کے نتائج کی وجہ سے ان خدشات نے جنم لیا ہے کہ نئی پالیسیاں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع اور مصنوعی ذہانت (AI) کے انفراسٹرکچر پر اخراجات کو سست کر سکتی ہیں۔
بڑی کمپنیوں کے شیئرز کا نقصان: چپس بنانے والی کمپنی Nvidia کے شیئرز میں 9.26%، سسکو (Cisco) میں 7.62%، اور گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) میں 6.36% کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
دیگر انڈیکسز کا حال: ڈو جونز کے ساتھ ساتھ ٹیک انڈیکس نیسڈیک (Nasdaq) 5.52% جبکہ ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) بھی 4.36 ٖفیصد تک گر چکے ہیں۔ نیسڈیک تو کوریکشن (correction) کی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔
ڈیموکریٹس کی جیت کے بعد سے جاپان کا نکئی انڈیکس 6.2 اور جنوبی کوریا میں کوپسی انڈیکس 9 فیصد گرا ہے۔
اس وقت انویسٹرز آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور دیگر ترقیاتی شعبوں سے اپنی سرمایہ کاری کم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پوری مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

