شیکسپیئر کے ڈرامے رچرڈ سوم کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ بے اطمینانی کی سردی شان دار گرمیوں میں بدل جاتی ہے۔ پاکستان کو اس کے برعکس صورت حال کا سامنا ہے: ایک پرسکون خزاں اب ڈیزل زدہ سردیوں میں تبدیل ہونے والی ہے۔
فروری کے آخر سے ڈیزل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور قریب مستقبل میں ان کے کم ہونے کا امکان نہیں۔ اگرچہ چند درست پالیسی فیصلے کیے گئے ہیں لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ڈیزل کی عالمی منڈی میں کمیابی کی ایک بڑی وجہ ہے، لیکن عالمی رسد کو روس۔یوکرین جنگ نے بھی شدید متاثر کیا ہے کیونکہ روس دنیا کا دوسرا بڑا ڈیزل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ یوکرین نے روس کی 32 میں سے 27 ریفائنریوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں سے صرف جولائی میں 18 پر حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ماسکو کو ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگانا پڑی۔
قریب مستقبل میں قیمتوں کے کم ہونے کا امکان نہیں۔ جنگوں نے ریفائنگ کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور جو ریفائنریاں اب بھی کام کر رہی ہیں، وہ اپنی مکمل استعداد پر چل رہی ہیں۔ قلت کی وجہ سے کریک سپریڈ، یعنی خام تیل اور ڈیزل کی قیمت کے درمیان فرق ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ ضائع ہونے والی پیداواری صلاحیت کو بحال کرنے میں وقت لگے گا۔
یورپ میں بہت سے لوگ اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے بھی ڈیزل استعمال کرتے ہیں، اس لیے اگر سردی سخت ہوئی تو ایشیا اور افریقہ کے حصے کی سپلائی یورپ کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کی صورت میں بھی آئندہ سال تک ڈیزل مہنگا رہنے کا امکان ہے۔
ترقی یافتہ معیشتوں میں ڈیزل کی قیمتیں پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ بڑھی ہیں۔ وہاں کے مرکزی بینک اس سے پیدا ہونے والی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرحِ سود بڑھا رہے ہیں۔ بلند ڈیزل قیمتیں امریکہ میں بھی تشویش پیدا کر رہی ہیں، جہاں ملک وسط مدتی انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون ممالک سے اپنے تزویراتی ذخائر سے مزید ڈیزل جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان میں بھی جھٹکے پیدا کر رہا ہے۔ یہاں ڈیزل امیروں کا ایندھن نہیں۔ یہی ملک کا مال بردار نظام چلاتا ہے، ٹریکٹرز کو متحرک رکھتا ہے اور ٹیوب ویلوں کو چلاتا ہے۔ سردیاں گندم کی کاشت کا موسم ہوتی ہیں، اس لیے آج کے ڈیزل کی قیمت کل کے آٹے کی قیمت بن جاتی ہے۔
معیشت ایک اور مہنگائی کے چکر کے دہانے پر کھڑی ہے، جس کی وجہ سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو شرح سود بڑھانا پڑ رہی ہے اور یہ اقدام معاشی نمو اور روزگار کے مواقع کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ صورت حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گذشتہ چھ برسوں میں غربت کی شرح میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اگر چند اہم پالیسی فیصلے نہ کیے گئے ہوتے تو حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہو سکتے تھے۔
کچھ حکومتیں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام تک منتقل کرنے میں وقت لے سکتی ہیں، لیکن پاکستان ایسا نہیں کر سکتا۔ 2022 میں ایک دباؤ کا شکار حکومت نے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتیں بڑھانے سے گریز کیا، جس سے معیشت تقریباً تباہی کے دہانے تک پہنچ گئی۔ اسی لیے حکومت کا حالیہ فیصلہ، جس کے تحت قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کیا جاتا ہے، ایک درست پالیسی ہے۔
اسے سیلاب کے دوران ایک بند کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر پانی آتے ہی چھوڑ دیا جائے تو بند برقرار رہتا ہے۔ اگر اسے روکا جائے تو دباؤ بڑھتا رہتا ہے اور آخرکار بند ٹوٹ جاتا ہے۔ ایندھن پر سبسڈی بھی اسی اصول پر کام کرتی ہے: قیمت بڑھانے میں تاخیر کی جائے تو ادا نہ کیا گیا بل بڑھتا جاتا ہے اور آخرکار بجٹ کو توڑ دیتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے مقامی ریفائنریوں کو بھی آمادہ کیا ہے کہ وہ ڈیزل کا سپریڈ 38 ڈالر فی بیرل تک محدود رکھیں، جو اس موسمِ خزاں میں عالمی سپریڈ 90 سے 120 ڈالر فی بیرل سے کہیں کم ہے۔ اسی دوران مقامی ڈیزل کی قیمت مقرر کرنے کے فارمولے میں بھی تبدیلی کی گئی اور ’امپورٹ پیریٹی‘ کو ختم کیا گیا، جس سے پمپ پر دستیاب ڈیزل کی قیمت مزید کم ہوئی۔
ان بروقت فیصلوں نے پاکستان میں ڈیزل کی قیمتوں کو نسبتاً کم رکھنے میں مدد دی ہے، تاہم ایندھن پر عائد لیوی اب بھی انتہائی غیر مقبول اور مہنگائی بڑھانے والی ہے۔ حکومت نے بعض اوقات قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ڈیزل پر لیوی کم کی، لیکن اس کے باوجود وہ فی لیٹر ریفائنریوں سے زیادہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔
فی الحال اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی آمدنی سے متعلق وعدے پورے کرنا ہیں، تاہم درمیانی مدت میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہو گا تاکہ ایسے شعبے بھی اس میں شامل ہوں جو اپنی منصفانہ حصہ داری ادا نہیں کرتے۔
وزیراعظم کی خصوصی ریلیف سکیم پر بھی ازسرنو غور کی ضرورت ہے۔ اس سبسڈی کو بہتر انداز میں ہدف بنانے کے لیے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ملکیت کے ڈیٹا کو کم سماجی و معاشی حیثیت کے اعدادوشمار کے ساتھ ملا کر ایک ایسا ڈیٹا سٹیک تیار کیا جانا چاہیے جو حقیقی ضرورت رکھنے والے شہریوں کی نشاندہی کرے۔ اسی طرزِ عمل کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کو شاید اس سکیم کو توسیع دے کر چھوٹے کسانوں کو رعایتی ڈیزل بھی فراہم کرنا چاہیے، کیونکہ زرعی لاگت میں اضافہ بالآخر خوراک کی قیمتوں میں نظر آتا ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے پالیسی سازوں کو پاکستان کی ریفائنریوں کے ساتھ ہونے والے 5 ارب ڈالر کے اپ گریڈ معاہدے پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ جب یہ اپ گریڈ مکمل ہو جائے گا تو پاکستان اپنی ڈیزل کی تمام ضروریات اندرون ملک پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا، جبکہ آج یہ شرح تقریباً 70 فیصد ہے اور ممکن ہے کہ ملک خالص برآمد کنندہ بھی بن جائے۔
شیکسپیئر کی سردی گرمیوں میں بدل گئی تھی۔ پاکستان کی ڈیزل والی سردیاں بھی بدل سکتی ہیں۔ روزانہ قیمتوں کا تعین اور محدود سپریڈ وقت تو خرید سکتے ہیں، لیکن تحفظ نہیں۔ اصل تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں اپنی ضرورت کا کافی ڈیزل مقامی سطح پر ریفائن کیا جائے۔ اس وقت تک یورپ کی ہر سردی کی قیمت پاکستان کے پٹرول پمپوں پر ادا کی جاتی رہے گی۔
ڈاکٹر اقدس افضل نے فل برائٹ سکالرشپ کے تحت معاشیات میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

