ناسا نے ایک نئے تجرباتی طیارے کا اعلان کیا ہے جس کے حوالے سے ادارہ پُرامید ہے کہ یہ اب تک کے تمام طیاروں سے منفرد انداز میں پرواز کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے کے مطابق X-70 Fractal نامی اس طیارے کا مقصد انسانی پائلٹ کے ساتھ پرواز کے دوران طیارے کی نقل و حرکت اور سمت بدلنے کی ایسی صلاحیتوں کا تجربہ کرنا ہے، جن کا مظاہرہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔
🚨 BREAKING: Introducing X-70 Fractal, @NASA‘s newest experimental aircraft!
This crewed, modular aircraft will allow the agency to rapidly swap out internal & external payloads to help keep pushing the frontiers of aviation technology! @nasaadmin
Details:… pic.twitter.com/RxEuIqvJpR
— NASA Aeronautics (@NASAaero) November 5, 2026
ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین کے مطابق یہ طیارہ پرواز کو کنٹرول کرنے کے جدید نظام اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو حقیقی فضائی حالات میں آزمانے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔
اس نئی فضائی ٹیکنالوجی کے علاوہ یہ طیارہ اندرونی اور بیرونی حصوں میں مجموعی طور پر 910 کلوگرام تک کے تجرباتی آلات اور تحقیقی سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس سے تحقیق کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
جیرڈ آئزک مین کا کہنا تھا کہ اس طیارے کا ماڈیولر ڈیزائن اور اس کے اندرونی و بیرونی آلات کو تیزی سے تبدیل کرنے کی صلاحیت ہماری ٹیموں کو مسلسل پرواز کرنے، تجربات سے سیکھنے اور ایک تجربے کے بعد فوری طور پر دوسرے تجربے کی طرف بڑھنے میں مدد دے گی۔
توقع ہے کہ یہ طیارہ آئندہ دو سال کے اندر ناسا کے زیرِ انتظام اپنی پہلی پرواز کرے گا۔
جیرڈ آئزک مین کے مطابق یہ طیارہ ہوا بازی کے شعبے میں ایک نئے دور کے آغاز کا محض ایک حصہ ہے۔

