کراچی میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر بڑا فیصلہ، تمام اموات زیرِ حراست تصور ہوں گی

کراچی پولیس.webp


کراچی میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر بڑا فیصلہ، تمام اموات زیرِ حراست تصور ہوں گی

حکم نامے کے مطابق لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل ٹیم کا تعین پولیس سرجن کراچی کریں گی

کراچی میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران ہلاکتوں سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پولیس سرجن نے نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری کردیا، جس کے تحت ایسے تمام واقعات میں ہونے والی اموات کو زیرِ حراست ہلاکتیں تصور کیا جائے گا اور ان کی قانونی و طبی کارروائی مخصوص ضابطوں کے تحت مکمل کی جائے گی۔

پولیس سرجن کراچی کی جانب سے جاری حکم نامے میں تمام میڈیکو لیگل افسران کو نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ ڈیڈ آن ارائیول پروٹوکول کے مطابق جاری کیے جائیں گے، جبکہ ایسے تمام کیسز ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت مجسٹریٹ کو بھجوائے جائیں گے۔

حکم نامے کے مطابق لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل ٹیم کا تعین پولیس سرجن کراچی کریں گی، جبکہ پوسٹ مارٹم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 یا 174 کے تحت کیا جائے گا۔

نئی ہدایات میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ کی تفصیلات بھی لازمی قرار دی گئی ہیں۔ افسران کو لاش کی حالت، جسم میں اکڑاؤ، موت کے بعد نمودار ہونے والے نشانات، کپڑوں کی حالت اور جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کی تعداد اور مقامات کی مکمل تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکو لیگل افسر ابتدائی سرٹیفکیٹ میں گولی کے داخلے اور اخراج کے زخموں کا حتمی تعین نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ لاش کے ہمراہ آنے والے پولیس اہلکاروں کی شناختی تفصیلات اور دستخط بھی سرٹیفکیٹ کا لازمی حصہ ہوں گے۔

پولیس سرجن کے اس نئے اسٹینڈنگ آرڈر کے تحت مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی طبی دستاویزات اور قانونی کارروائی کو مزید منظم بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ