لاہور میں نومبر کے پہلے ہفتے فضائی آلودگی خطرناک درجے تک برقرار

lahores air is polluted1790736559 0



لاہور میں نومبر کے پہلے 7 روز کے دوران فضائی آلودگی کی سطح مسلسل غیر صحت بخش سے خطرناک درجے تک برقرار رہی، یکم سے 7 نومبر تک شہر کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 268 ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2 نومبر کو یہ بڑھ کر 335 تک پہنچ گیا، جو ہفتے کی بلند ترین سطح رہی۔

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے مطابق ان 7 روز میں پانچ دن ہوا کا معیار انتہائی غیر صحت بخش جبکہ دو دن خطرناک درجے میں رہا، اس دوران فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات (پی ایم 2.5) کی اوسط مقدار 215.5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام سے تقریباً 14 گنا زیادہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے واقعات اور ان سے اٹھنے والے دھوئیں نے بھی آلودگی میں اضافے میں کردار ادا کیا، شہر میں روزانہ اوسطاً 54.8 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ ہوئے، جن دنوں آگ لگنے کے کم از کم 11 واقعات ہوئے، ان دنوں اوسط اے کیو آئی 207 رہا جبکہ دیگر دنوں میں یہ 158 ریکارڈ کیا گیا۔

موسمی حالات بھی آلودگی میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیے گئے ہیں، گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں سال پی ایم 2.5 کی مقدار 25 فیصد زیادہ رہی، رات کے وقت کم درجہ حرارت اور ہوا کی کم رفتار کے باعث آلودہ ذرات فضا میں موجود رہے، 9 سالہ ریکارڈ کے مطابق رواں سال کا یہ ہفتہ لاہور میں فضائی آلودگی کے لحاظ سے تیسرا بدترین ہفتہ تھا۔

رپورٹ میں بھارت سے آنے والی ہواؤں کا بھی جائزہ لیا گیا، یکم سے 7 نومبر کے دوران کسی بھی دن بھارتی سمت سے آنے والی ہواؤں کا حصہ 25 فیصد یا اس سے زیادہ نہیں تھا، تجزیے کے مطابق جن دنوں ان ہواؤں کا حصہ زیادہ رہا، ان دنوں لاہور کا اوسط اے کیو آئی 160 جبکہ دیگر دنوں میں 187 ریکارڈ کیا گیا تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوا کے راستوں کا تجزیہ آلودگی کے اصل منبع کی تصدیق نہیں کرتا۔

دوسری جانب اسموگ رینک کے مطابق گزشتہ سات روز میں لاہور میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 210.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو گزشتہ ایک سال کی اوسط 65.2 مائیکروگرام سے تقریباً 3.2 گنا زیادہ ہے، 2 نومبر کو یہ مقدار 282.1 مائیکروگرام تک پہنچ گئی، اسی روز ناسا کے سیٹلائٹس نے لاہور کے گرد 300 کلومیٹر کے علاقے میں آگ لگنے کے 488 واقعات کی نشان دہی کی، جن میں سے 204 واقعات 100 کلومیٹر کے دائرے میں ریکارڈ ہوئے تاہم ان واقعات کا دھواں لاہور تک پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسموگ رینک کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی سال بھر بلند رہتی ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران عام دنوں میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 65.2 مائیکروگرام رہی، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد سے 4.3 گنا زیادہ ہے، نومبر اور دسمبر آلودگی کے بدترین مہینے رہے، جن میں یہ مقدار 237.7 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں آلودگی کی ممکنہ وجوہات میں گاڑیوں اور دیگر مقامی ذرائع کے علاوہ آگ لگنے کے واقعات، فصلوں کی باقیات جلانے، گردوغبار اور سردیوں کے موسمی حالات کو شامل کیا گیا ہے، تجزیہ لاہور میں فضائی آلودگی کی پیمائش، ناسا کے فائر ڈیٹیکشن سسٹم اور امریکی ادارے نووا کے دھوئیں سے متعلق نقشوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ