ڈھاکہ— بنگلادیش کی 13ویں جاتیہ سنسد (پارلیمانی) انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ووٹنگ صبح 7:30 بجے شروع ہوئی اور شام 4:30 بجے ختم ہوئی، جس کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی۔ یہ انتخابات 2024 کے طلبہ تحریک کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی پہلی بڑی جمہوری مشق ہیں، جنہیں "جمہوریت کی واپسی” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، دوپہر 2 بجے تک تقریباً 47.91% ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو ملک بھر میں 42,651 پولنگ سینٹرز پر پرامن ماحول میں ہوا۔ ووٹنگ کے دوران چند الگ تھلگ واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر امن و امان برقرار رہا۔ گنتی کا عمل پولنگ سینٹرز پر ہی شروع ہو گیا، جہاں ابتدائی رجحانات آج نصف شب کے قریب متوقع ہیں، جبکہ مکمل اور حتمی نتائج کل جمعہ 13 فروری کی صبح تک واضح ہو جائیں گے۔
یہ انتخابات بنیادی طور پر دو بڑے اتحادوں کے درمیان سخت مقابلے کی صورت میں ہیں:
بی این پی (Bangladesh Nationalist Party) کی قیادت میں اتحاد، جس کی سربراہی طارق رحمان کر رہے ہیں۔ بی این پی کو ابتدائی رجحانات میں برتری حاصل ہے اور کئی حلقوں میں آگے دکھائی دے رہی ہے (مثلاً کچھ رپورٹس میں 37-50 سیٹوں پر لیڈ)۔
جماعت اسلامی بنگلادیش کی قیادت میں 11 پارٹی اتحاد (جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) بھی شامل ہے، جو 2024 کی تحریک کے طلبہ لیڈروں نے بنائی)۔ جماعت کے چیف شفیق الرحمان مرکزی امیدوار ہیں۔ اتحاد نے کئی جگہوں پر مضبوط مقابلہ کیا ہے، خاص طور پر NCP کے امیدوار حسنات عبداللہ نے کمیلا-4 (دیبیڈوار) میں لینڈ سلائیڈ جیت حاصل کی ہے، جہاں انہیں تقریباً 1,72,000 ووٹ ملے جبکہ حریف کو صرف 26,000 ووٹ۔
یہ انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ عوامی لیگ (شیخ حسینہ کی جماعت) پر پابندی ہے، اور ملک آئین میں ترامیم (جولائی چارٹر 2025) کے حوالے سے ریفرنڈم بھی کر رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انتخابات کو "فارس” قرار دیتے ہوئے ووٹر ٹرن آؤٹ کو کم قرار دیا ہے۔
شائقین اور تجزیہ کار نتائج کے منتظر ہیں، جو ملک کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گ

