اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے شہر میں چلنے والی تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے ایم ٹیگ لگانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی کو مؤثر بنانے اور شہر میں داخل و خارج ہونے والی گاڑیوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ کے ذریعے گاڑیوں کی نقل و حرکت کا ڈیٹا فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دستیاب ہوگا جس سے مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی ممکن بنائی جا سکے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ نظام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو بھی تیز کرے گا۔
ایم ٹیگ دراصل نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت موٹر ویز پر ٹول ٹیکس کی خودکار وصولی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ٹول پلازہ پر رش کم کرنا اور ادائیگی کے عمل کو شفاف بنانا تھا۔ اب اس نظام کو شہری حدود میں لازمی قرار دینے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کی بنیادی شناخت اس کی رجسٹرڈ نمبر پلیٹ ہوتی ہے اور جدید کیمرہ سسٹمز کے ذریعے پہلے ہی ای چالان اور نگرانی کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ ڈیجیٹل نظام مکمل طور پر فعال ہے تو ایم ٹیگ کی افادیت اور دائرہ کار کے بارے میں واضح پالیسی بیان ضروری ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں شہر میں داخلے اور اخراج پر ٹول ٹیکس کے نفاذ کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں کسی بھی نئے مالی بوجھ سے قبل حکومت کو شفافیت اور واضح یقین دہانی فراہم کرنی چاہیے۔
ضلعی حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف سیکیورٹی اور ڈیجیٹل نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے اور اس کا براہِ راست تعلق کسی نئے ٹیکس سے نہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی پالیسی دستاویز جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ ایم ٹیگ کی لازمی تنصیب، ڈیٹا کے تحفظ اور ممکنہ جرمانوں سے متعلق واضح رہنما اصول جاری کرے تاکہ کسی قسم کی ابہام یا بے چینی پیدا نہ ہو۔
وفاقی دارالحکومت میں اس فیصلے کے بعد بحث کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ دنوں میں اس پر مزید وضاحت سامنے آنے کا امکان ہے

