ماسکو / اقوام متحدہ — روس نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کی ہنگامی اجلاس میں دو ٹوک موقف اختیار کر لیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ان حملوں کو "ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام” اور "جان بوجھ کر، سوچی سمجھی اور بلاجواز مسلح جارحیت” قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ امریکہ و اسرائیل نے خطے کو "انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر تابکاری تباہی” کی طرف دھکیل دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں روسی مندوب واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا: "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل فوری طور پر اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کریں۔ ہم بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور مفادات کے توازن پر مبنی سیاسی اور سفارتی حل کی فوری بحالی کا اصرار کرتے ہیں۔”
روسی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں موجود ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری "ناقابل قبول” ہے اور اس بحران کے تمام منفی نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر واشنگٹن اور تل ابیب پر عائد ہوتی ہے۔
روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو فوجی آپریشن کے لیے آڑ کے طور پر استعمال کیا — یعنی سفارتکاری کا لبادہ اوڑھ کر جنگ کی تیاری کی گئی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حملوں کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ "متبادل ایک وسیع تر تنازع ہے جو شہریوں اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین نتائج لائے گا۔”

