واشنگٹن / کراچی — 3 مارچ 2026
دو امریکی حکام نے پیر کو انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کے دھاوے کے دوران امریکی میرینز نے فائرنگ کی — کسی سفارتی مشن پر اس نوعیت کی طاقت کا استعمال ایک غیرمعمولی واقعہ ہے جو ملک میں کشیدگی کو شدت سے بڑھا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت آئی۔ اتوار کو جب مظاہرین نے قونصلیٹ کی بیرونی دیوار توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو دس افراد ہلاک ہوگئے۔
ابتدائی معلومات کی بنیاد پر دونوں امریکی حکام نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ میرینز کی فائر کی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا ہلاکت کا سبب بنیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ قونصلیٹ پر مامور دیگر سیکورٹی اہلکاروں — بشمول نجی گارڈز اور مقامی پولیس — نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
کراچی پولیس کے ایک افسر نے رائٹرز کو بتایا کہ فائرنگ قونصلیٹ کے اندر سے کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایک مظاہر کو قونصلیٹ کی طرف ہتھیار سے فائر کرتے اور خون آلود مظاہرین کو بھاگتے دیکھا گیا۔
صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔
امریکی میرینز نے تمام سوالات فوج کو، اور فوج نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دیے، جس نے تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ پاکستان میں پیر سے پورے ملک میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم ملک بھر میں احتجاج کے دوران 26 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

