روس نے افغان پاک سرحدی تصادم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت پر زور دیا

IMG 20260305 WA2132


ماسکو، – روسی وزارت خارجہ نے افغانستان پاکستان سرحد پر جاری مسلح تصادم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، اور پشتون قبائل کے علاقوں میں طیاروں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کو اجاگر کیا ہے۔0a8755
ترجمان ماریا زاخارووا کے جاری کردہ بیان میں روس نے دونوں جانب سے ہلاکتوں کی اطلاعات کا حوالہ دیا، اور شہریوں پر ہونے والے اثرات کو نمایاں کیا، جن میں پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے افغان مہاجرین شامل ہیں۔ "ہم افغان پاک سرحد پر جاری لڑائی پر تشویش کا شکار ہیں،” زاخارووا نے کہا، اور حالیہ دنوں میں وسیع علاقے میں تصادم کی نوعیت پر زور دیا۔
زاخارووا نے تنازعات کو کم کرنے کی اپیل کو دہرایا، اور کابل اور اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔ "ہم ایک بار پھر کابل اور اسلام آباد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوجی تصادم سے گریز کریں اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں،” انہوں نے کہا۔a966d3
یہ بیان زاخارووا کے 27 فروری کے پچھلے بیان کی پیروی کرتا ہے، جہاں روس نے دونوں ممالک سے اسی طرح کی اپیل کی تھی کہ وہ شدید تصادم کے دوران باقاعدہ فوجی دستوں اور فضائی حملوں کو روکیں۔e98722 جاری کشیدگی میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے علاقوں جیسے کابل، پکتیا اور قندھار میں ہدف بنانے کی اطلاعات شامل ہیں، جو سرحدی واقعات کے جواب میں ہیں۔4b31f4
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تصادم طویل مدتی مسائل سے جنم لے رہے ہیں، جن میں سرحدی دہشت گردی اور مہاجرین کی نقل و حرکت شامل ہے، جو علاقائی عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے۔ روس، جو دونوں ممالک کو اہم شراکت دار سمجھتا ہے، نے پہلے علاقے کو مستحکم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔6ac8c0
افغان یا پاکستانی حکام کی جانب سے روسی اپیل پر فوری ردعمل دستیاب نہیں تھا۔

متعلقہ پوسٹ