تہران/واشنگٹن — پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز اور تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نہ کوئی بالواسطہ اور نہ ہی بلاواسطہ مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہی اس وقت کوئی بات چیت جاری ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق جب امریکی فریق کو یہ معلوم ہوا کہ ایران کے اہداف میں مغربی ایشیا کے بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی شامل ہیں تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایران کے پاور اسٹیشنز پر حملہ کیا تو وہ خطے بھر کے بجلی گھروں اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنائے گا — جو خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ "بہت اچھی اور نتیجہ خیز” گفتگو ہوئی ہے اور انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے پانچ روز کے لیے مؤخر کر دیے ہیں۔
امریکہ اسرائیل جنگ کو چار ہفتے گزر چکے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر عملاً ناکہ بندی کر رکھی ہے جس سے دنیا کے تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا پانچواں حصہ متاثر ہو رہا ہے اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مذاکرات کی ناکامی کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یورینیم افزودگی پر اصرار کر کے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔

