متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایک امریکی شہری جو افغانستان میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے قید تھا منگل کو ابوظبی پہنچ گیا ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے منگل کو کابل میں اس امریکی ماہر لسانیات اور محقق ڈینس کوائل کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’متحدہ عرب امارات نے ایک امریکی شہری کی رہائی کی میزبانی کی جو افغانستان میں حراست میں تھا، دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے نمائندوں کی موجودگی میں امریکہ منتقلی میں مدد ملی۔‘
افغان خبر رساں ادارے باختر کے مطابق افغانستان نے عید الفطر کے موقع پر ایک امریکی شہری ڈینس کوائل کو رہا کر دیا، جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے باعث حراست میں تھا۔
افغان وزارت خارجہ کے مطابق ’اس شہری کے اہلِ خانہ نے عید کے پیش نظر امارت اسلامیہ کی قیادت سے رحم کی اپیل کی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس کی سابق قید کو کافی قرار دیتے ہوئے اسے رہا کر دیا اور کابل میں اس کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغان طالبان حکومت نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اعلامیے میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک مستقبل میں باہمی افہام و تفہیم اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے باقی مسائل کا حل تلاش کریں گے۔
کابل نے اس عمل میں تعاون اور سہولت فراہم کرنے پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔
ادھر افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد، کابل میں متحدہ عرب امارات کے سفیر اور ایک امریکی شہری کے اہلِ خانہ کے نمائندے سے ملاقات کی۔
وزارت خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں وزیر خارجہ نے کہا کہ قیدی کے اہلِ خانہ، خصوصاً اس کی والدہ کی درخواست موصول ہونے کے بعد، عیدالفطر کے موقع پر امیر کی ہدایت پر سپریم کورٹ نے اس کی سزا کو کافی قرار دیتے ہوئے اس کی رہائی کا فیصلہ کیا۔
مولوی امیر خان متقی نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر ملکی شہری کو سیاسی مقاصد کے لیے حراست میں نہیں لیا جاتا بلکہ تمام افراد کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی رہا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے شہریوں کو معیاری قونصلر خدمات فراہم کرنی چاہیں اور افغانستان اس حوالے سے مکمل آمادگی رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات، خصوصاً محمد بن زاید آل نہیان، کا رہائی کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اسے افغانستان کا قریبی دوست قرار دیا۔ انہوں نے قطر کے کردار کو بھی سراہا جس نے معلومات کے تبادلے میں سہولت فراہم کی۔
اس موقع پر زلمی خلیل زاد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تمام امور پر مذاکرات کے تسلسل کو اہم قرار دیا اور مستقبل میں مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی۔

