پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کی مشترکہ تعاون فریم ورک بنانے پر مشاورت

394398 253582207


پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آج ترکی، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارتکاروں سے ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ تعاون فریم ورک بنانے سے متعلق بات چیت کی ہے۔

منگل کو پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے مابین ایک مشترکہ تعاون فریم ورک تشکیل دیا جانا چاہیے، جس کا مقصد امن، خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنا ہو۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترکی، مصر اور سعودی عرب کے اعلی سفارتکاروں سے ملاقات میں چاروں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے فروغ پر بات کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک کے سینئر سفارتکار اس وقت پاکستان میں موجود ہیں جہاں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان سینئر حکام کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد آج اسلام آباد میں ہوا۔

اسحاق ڈار نے ترکی کے نائب وزیر خارجہ موسیٰ کلاکلی کایا، مصر کے اسسٹنٹ وزیر خارجہ نزيه النجاري اور سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود سے ملاقات کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے چاروں برادر ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور اہم علاقائی و عالمی امور پر ہم آہنگی کو سراہا۔

آج ہی پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے سینیئر حکام کا بھی اجلاس ہوا، جس میں چاروں ممالک کے درمیان تعاون سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ اجلاس 29 مارچ کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس کے تسلسل میں منعقد کیا گیا۔ 

پاکستان کی جانب سے اس اجلاس میں قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اور ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے کی۔ 

جبکہ ترکی کے نائب وزیر خارجہ سمیت مصر کے اسسٹنٹ وزیر خارجہ اور سعودی عرب سے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ 

اجلاس میں ہونے والی مشاورت کے نتائج 17 اپریل کو ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں گے، جو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

دوسری جانب اس سے قبل پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین رواں ہفتے امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں جس کی تصدیق سرکاری سطح پر نہیں کی گئی ہے۔

تاہم پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے پہلے دور سے قبل اور ان کے دوران ترکی، سعودی عرب، مصر اور چین سے رابطے کی تفصیلات شئیر کی گئیں۔

جبکہ پاکستان وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے ساتھ پس پردہ روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ