وزیر خارجہ کا مطالبہ — پاکستان، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک پر مشتمل علاقائی پلیٹ فارم قائم کیا جائے
انقرہ / اسلام آباد | یکم جون ۲۰۲۶
ترکیہ نے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے زیر اہتمام ابراہیمی معاہدوں میں اس وقت تک شامل نہیں ہو گا جب تک ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔ ترک وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ ان کا غیر متزلزل مؤقف ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
ترک وزیرِ خارجہ نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ابراہیمی معاہدے خطے میں پائیدار امن کا ذریعہ نہیں بن سکتے جب تک فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی نہ ہو۔ انہوں نے ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔
وزیرِ خارجہ نے ایک اہم تجویز پیش کی کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ علاقائی سفارتی پلیٹ فارم قائم کیا جائے جو فلسطینی مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں اٹھائے اور مغربی طاقتوں پر دباؤ برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کے اتحاد کے بغیر فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ترکیہ کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمِ اسلام کے متفقہ جذبات کا آئینہ دار ہے۔

